آزاد کشمیر ہڑتال اور عوامی ایکشن کمیٹی احتجاجی بینر

عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت میں ڈیڈ لاک برقرار: آزاد کشمیر میں قحط کا خطرہ

مظفرآباد / راولپنڈی: آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر جاری پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کو 10 دن (9 جون سے 19 جون) گزر چکے ہیں، لیکن تاحال صورتحال جوں کی توں ہے۔ وادی میں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت اور وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے مابین مذاکرات کے امکانات دور دور تک نظر نہیں آ رہے۔

حالات اس حد تک سنگین ہو چکے ہیں کہ کشمیر جانے والے راشن، آٹے اور چاول کے ٹرکوں کو بھی راستے میں روک دیا گیا ہے، جس سے آزاد کشمیر کے اندر شدید قحط اور غذائی قلت کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، حکومت کا بظاہر موقف یہ ہے کہ 12 بنیادی نکات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، جبکہ اندرونی حکمت عملی یہ دکھائی دیتی ہے کہ احتجاج کو طول دے کر عوام اور ایکشن کمیٹی کو تھکا دیا جائے، تاکہ بعد میں قیادت کے خلاف کریک ڈاؤن کر کے سخت مقدمات اور ایف آئی آرز کے ذریعے انہیں ہمیشہ کے لیے دبا دیا جائے۔ حکومت کا خیال ہے کہ اشیاء مہنگی ہونے پر عوام خود ایکشن کمیٹی سے بدظن ہو جائیں گے، جس کے بعد صورتحال کو ہینڈل کرنا آسان ہو جائے گا۔ پیپلز پارٹی اور نون لیگ یہ سمجھ چکی ہیں کہ اگر ایکشن کمیٹی کا زور نہ توڑا گیا تو کشمیر میں ان کا سیاسی مستقبل ختم ہو جائے گا۔

دوسری طرف، عوامی ایکشن کمیٹی کا موقف بالکل واضح ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایف آئی آرز پر بات بعد میں ہوگی؛ پہلے احتجاج کے دوران گولیوں کا نشانہ بننے والے شہریوں کی ہلاکت پر جوڈیشل انکوائری کرائی جائے اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔ مظاہرین کا عزم ہے کہ وہ جانیں دے چکے ہیں اور اب 12 مطالبات کی منظوری کے بغیر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ اگر وہ کسی نتیجے کے بغیر واپس گئے تو حکومت ان پر دفعہ 302 جیسے سنگین مقدمات قائم کر کے انہیں جیلوں میں ڈال دے گی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اگلے مہینے ہونے والے انتخابات کے پیش نظر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے لیے یہ صورتحال انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر راولا کوٹ سمیت دیگر علاقوں میں انٹرنیٹ، بینک، سڑکیں اور دکانیں بند رہیں، تو دونوں جماعتیں عوامی غیظ و غضب کی وجہ سے گلی محلوں میں ووٹ مانگنے کے قابل بھی نہیں رہیں گی۔ اب گیند حکومت کے کورٹ میں ہے کہ وہ طاقت کا استعمال کرتی ہے یا مذاکرات کا راستہ اپناتی ہے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی حکومت کو کشمیر کے اس بحران کو حل کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں؟ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے کمنٹ سیکشن میں لازمی کریں۔

اپنا تبصرہ لکھیں