کینبرا / چکوال: چکوال میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) کے اہلکاروں کی مبینہ فائرنگ سے آسٹریلوی نژاد پاکستانی بچی ہانیہ احمد کی ہلاکت کے واقعے نے بین الاقوامی توجہ حاصل کر لی ہے۔ آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانی نے اس دلدوز واقعے پر گہرے دکھ اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی حکام سے اس معاملے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا باضابطہ مطالبہ کر دیا ہے۔
واقعے کا پسِ منظر اور ہانیہ احمد کی ہلاکت
تفصیلات کے مطابق، یہ افسوسناک واقعہ گزشتہ ہفتے چکوال میں اس وقت پیش آیا جب آسٹریلوی نژاد پاکستانی شہریوں کا ایک خاندان حج کی سعادت حاصل کرنے کے بعد وطن واپس لوٹا تھا اور کرائے کی گاڑی میں سفر کر رہا تھا۔
متاثرہ خاندان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
سفر کے دوران مسلح ملزمان نے بندوق کی نوک پر اہل خانہ کو لوٹنے کی کوشش کی جس سے وہاں تصادم شروع ہو گیا اور بات فائرنگ تک پہنچ گئی۔
فائرنگ کے اس شدید تبادلے کے نتیجے میں معصوم بچی ہانیہ احمد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی۔
واقعے میں بچی کے والد عادل احمد اور اس کا بھائی بھی گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوئے۔
پولیس کا دعویٰ اور والد کا متضاد بیان
مقامی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب مسلح ڈاکوؤں نے خاندان کی گاڑی کو روک کر وہاں موجود سی سی ڈی افسر پر فائرنگ کی۔ پولیس کے مطابق، اس افراتفری کے دوران ایک سی سی ڈی کانسٹیبل نے فرار ہونے والے مشتبہ افراد کی گاڑی سمجھ کر غلطی سے متاثرہ خاندان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی، جس سے معصوم بچی کی جان چلی گئی۔ سی سی ڈی کے ایک سینئر اہلکار نے اسے ایک “آپریشنل غلطی” قرار دیا ہے۔
والد عادل احمد کا سرکاری بیانیے پر اعتراض: متاثرہ بچی کے والد نے پولیس کے اس ورژن کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے ‘ایس بی ایس (SBS) اردو’ سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فائرنگ کی شروعات پہلے پولیس کی طرف سے کی گئی تھی، جو کہ سرکاری حکام کے بیانیے کے بالکل برعکس ہے۔
کانسٹیبل کی گرفتاری اور تفتیش میں اہم پیشرفت
اس ہائی پروفائل کیس کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (JIT) تشکیل دی جا چکی ہے جس نے زخمی والد کا بیان ریکارڈ کر لیا ہے۔ کیس سے جڑی اب تک کی اہم پیشرفت درج ذیل ہے:
ایف آئی آر میں ترمیم: خاندان کی طرف سے درج کرائی گئی ابتدائی ایف آئی آر میں صرف ڈکیتی کی کوشش کا ذکر تھا، لیکن بعد میں شکایت کنندہ کی درخواست پر مزید تحقیقات کے بعد اس میں سی سی ڈی اہلکار کو ملوث کرنے کا حصہ بھی شامل کیا گیا۔
اہلکار کا ریمانڈ اور فرانزک: فائرنگ میں ملوث سی سی ڈی کانسٹیبل کو گرفتار کر کے چکوال کی عدالت نے ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔ کانسٹیبل کا سروس ہتھیار ضبط کر لیا گیا ہے جبکہ جائے وقوعہ سے ملنے والے گولیوں کے خول، گاڑی اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی فرانزک جانچ کی جا رہی ہے۔
دو مشتبہ ڈاکوؤں کی ہلاکت: ایک الگ پیشرفت میں چکوال پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس واقعے سے منسلک دو مشتبہ ڈاکو بعد میں ایک اور پولیس مقابلے میں مارے گئے ہیں، جن کی شناخت محمد فیاض اور محمد عباس کے نام سے ہوئی ہے اور دونوں کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ موجود تھا۔
اس واقعے نے پنجاب میں پولیسنگ کے طریقوں، مبینہ مقابلوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اندر جوابدہی کے حوالے سے انسانی حقوق کے گروپوں کی بحث کو ایک بار پھر تیز کر دیا ہے۔ کیس کی حتمی رپورٹ آنے والے چند دنوں میں متوقع ہے۔

