پاکستان کا پہلا فریڈم انڈیکس: ذاتی آزادی اعلیٰ، گورننس کمزور

اسلام آباد: پاکستان میں آزادی اور طرزِ حکمرانی کے حوالے سے اپنی نوعیت کا پہلا قومی مطالعہ سامنے آیا ہے، جس کے نتائج انتہائی دلچسپ اور چونکا دینے والے ہیں۔ اسلام آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز (ISSI) میں باقاعدہ طور پر اسٹیٹ آف فریڈم رپورٹ پاکستان 2026 جاری کر دی گئی ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کے پارٹنر ادارے ‘مشال پاکستان’ کی تیار کردہ اس رپورٹ میں ملکی سطح پر سیاسی، معاشی، سماجی، قانونی اور ڈیجیٹل آزادیوں کو ایک فریم ورک کے تحت ماپا گیا ہے۔

ذاتی اور کاروباری آزادی کے مثبت اشارے
رپورٹ کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستانی معاشرہ اپنے ذاتی اور پیشہ ورانہ انتخاب کے معاملے میں نسبتاً کھلا محسوس کرتا ہے۔ شہریوں کی اکثریت نے بنیادی ذاتی آزادیوں پر اطمینان کا اظہار کیا ہے:

پیشے کا انتخاب: 77% جواب دہندگان نے واضح کیا کہ وہ اپنی مرضی کے پیشے کا انتخاب کرنے کے لیے مکمل آزاد ہیں۔

کاروباری ماحول: 75% شہریوں کا ماننا ہے کہ ملک میں کاروبار غیر ضروری حکومتی مداخلت کے بغیر چلائے جا سکتے ہیں۔

خواتین کا بااختیار ہونا: 75% جواب دہندگان نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے مواقع اور راستے تیزی سے فراہم کیے جا رہے ہیں۔

مذہبی آزادی: حساس اشارہ ہونے کے باوجود 65% شہریوں نے ملک میں مذہبی آزادی کو مثبت انداز میں دیکھا۔

طویل مدتی پالیسی: 69% عوام کی خواہش ہے کہ قومی منصوبہ بندی کو 5 سالہ قلیل مدتی دور سے بڑھا کر طویل مدتی پالیسی تسلسل کی طرف لے جایا جائے۔

حکمرانی اور معاشی صورتحال پر عوامی تحفظات
ان حوصلہ افزا اعدادوشمار کے برعکس، رپورٹ میں شہریوں اور ریاست کے درمیان رابطہ منقطع ہونے کا ایک گہرا احساس بھی سامنے آیا ہے۔

رپورٹ کا تاریک پہلو: تقریباً دو تہائی (2/3) جواب دہندگان کا یہ ماننا ہے کہ عام لوگوں کا حکومتی فیصلہ سازی اور پالیسی میکنگ پر بہت کم یا کوئی اثر نہیں ہے، جو حکومتی ڈھانچے اور عوامی آواز کے درمیان ایک بڑے فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، 58% شہریوں نے اپنی ذاتی مالی اور معاشی صورتحال کے بارے میں شدید خدشات کا اظہار کیا ہے، جو روزمرہ زندگی میں مسلسل معاشی اضطراب کی عکاسی کرتا ہے۔

ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام: پاکستان کی ابھرتی ہوئی کہانی
رپورٹ میں پاکستان کے تیزی سے پھیلتے ہوئے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو ملک کی سب سے مضبوط اور ابھرتی ہوئی کہانی قرار دیا گیا ہے۔

ڈیجیٹل تبدیلی کے حیران کن اعدادوشمار درج ذیل ہیں:

موبائل کنکشنز: ملک میں موبائل کنکشنز کی تعداد 190 ملین سے تجاوز کر چکی ہے۔

براڈبینڈ صارفین: پاکستان میں اس وقت تقریباً 140 سے 150 ملین براڈبینڈ صارفین موجود ہیں۔

سوشل میڈیا اور آئی ٹی برآمدات: سوشل میڈیا صارفین کی تعداد 70 ملین تک پہنچ چکی ہے، جبکہ پاکستانی نوجوانوں کی بدولت آئی ٹی اور فری لانسنگ کی برآمدات اب سالانہ 3 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں۔

عدالتی نظام پر دباؤ اور مستقبل کے بڑے چیلنجز
رپورٹ کے مطابق پاکستان کا نظامِ عدل اس وقت شدید ترین تناؤ کا شکار ہے۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ عدالتوں میں 2.2 ملین سے زائد مقدمات زیرِ التوا ہیں، جبکہ اس وقت ملک کی مختلف جیلوں میں 102,000 سے زائد افراد بند ہیں، جو قانونی نظام میں تاخیر اور صلاحیت کی کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا تھا کہ آزادی تبھی مضبوط ہوتی ہے جب ادارے جوابدہ ہوں اور شہریوں کی آواز پالیسی سازی میں جھلکے۔ انہوں نے اس رپورٹ کو شواہد پر مبنی طرزِ حکمرانی کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا۔ رپورٹ میں پاکستان کے مستقبل کے راستے کو متاثر کرنے والے چند بڑے قومی چیلنجز کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں موسمیاتی تبدیلی، پانی کی کمی، سائبر سیکیورٹی کے خطرات، غلط معلومات (Disinformation)، بے روزگاری، اور بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوات شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں