عمران خان کا پمز میں آنکھ کا پانچواں انجکشن مکمل

اسلام آباد: پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان علاج کے ایک اور اہم مرحلے سے گزرے ہیں۔ انہیں گزشتہ رات گئے اڈیالہ جیل سے پمز (PIMS) ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں آنکھوں کی مخصوص حالت کے پیشِ نظر ان کا پانچواں انٹرا وٹریل (Intravitreal) انجکشن کامیابی سے لگایا گیا ہے۔

ہسپتال منتقلی اور تفصیلی طبی معائنہ
طبی تفصیلات کے مطابق، 74 سالہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی کو ایک طے شدہ فالو اپ پروسیجر کے لیے رات گئے پمز ہسپتال لایا گیا۔ جہاں امراضِ چشم (Ophthalmology) کے ماہرین نے ان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا۔

معائنے کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

طبی حالت: ڈاکٹروں کی مختصر تشخیصی ٹیم نے معائنے کے بعد تصدیق کی کہ عمران خان کی حالت بالکل مستحکم ہے۔

جدید ٹیسٹ: ہسپتال میں ان کے آپٹیکل کوہرنس ٹوموگرافی (OCT) سمیت آنکھوں کے دیگر جدید امیجنگ ٹیسٹ کیے گئے، جن کی رپورٹس کے مطابق ان کی آنکھ کی صحت میں اب پہلے سے بہتری کے واضح اثرات دیکھے گئے ہیں۔

مائکروسکوپک سرجیکل رہنمائی میں پروسیجر
پمز ہسپتال کی انتظامیہ نے طے شدہ طبی پروٹوکولز کے تحت پہلے مریض سے باقاعدہ باخبر رضامندی (Informed Consent) حاصل کی، جس کے بعد انہیں مکمل نگرانی میں آپریشن تھیٹر منتقل کیا گیا۔ یہ پورا عمل مائکروسکوپک سرجیکل رہنمائی کے تحت ماہرین کی کڑی نگرانی میں انجام دیا گیا۔

ڈاکٹروں کے مطابق یہ ایک ڈے کیئر (Day-care) پروسیجر تھا، جس کی وجہ سے انہیں ہسپتال میں رات بھر داخل کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ پورے طریقہ کار کے دوران اور اس کے بعد بھی عمران خان کی حالت نارمل رہی، جس کے بعد انہیں ضروری طبی ہدایات اور فالو اپ مشورے دے کر اسی وقت واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔

بیرسٹر گوہر خان کی تصدیق اور پی ٹی آئی کا نیا مطالبہ
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے بھی اس طبی عمل کی باقاعدہ تصدیق کی ہے۔

بیرسٹر گوہر کا بیان: “عمران خان کو گزشتہ رات پمز ہسپتال لے جایا گیا تھا جہاں آنکھ کا انجکشن مکمل ہونے کے بعد انہیں واپس جیل منتقل کر دیا گیا۔ پارٹی قیادت کو بعد میں ہسپتال میں دن کے اوائل میں کیے گئے فالو اپ چیک اپ کے بارے میں بھی تفصیلی طور پر مطلع کیا گیا ہے۔”

دوسری جانب، پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کو مزید بہتر دیکھ بھال اور علاج کے لیے پمز سے فوری طور پر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے، اور ان کے اہل خانہ کو ان سے ملاقات کی باقاعدہ اجازت دی جائے۔ عمران خان کی صحت اور جیل میں ان کی حراستی طبی نگہداشت کا معاملہ اس وقت ملک میں ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن چکا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں