امریکہ ایران امن معاہدہ: قطری وفد تہران پہنچ گیا، دستخط کی تاریخ پر شدید ابہام برقرار

تہران: امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ پیغامات کے تبادلے اور سفارتی سرگرمیوں میں اچانک تیزی آ گئی ہے، جس کے پیشِ نظر ایک اعلٰی سطح کا قطری وفد تہران پہنچا ہے۔ تاہم، امریکہ ایران امن معاہدہ کے حوالے سے دستخط کی حتمی تاریخ پر تہران نے تاحال شدید مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے جس سے ڈیجیٹل دستخطی تقریب کے وقت پر الجھن پیدا ہو گئی ہے۔

قطری وفد کی آمد اور پسِ پردہ سفارت کاری
قطر کے وزیر خارجہ کے مشیر کی سربراہی میں آنے والے اس وفد کا مقصد تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ رابطوں کی ترسیل کو برقرار رکھنا ہے۔ پس پردہ جاری اس تیز ترین سفارت کاری کے دوران قطری وفد کا چند دنوں کے اندر تہران کا یہ دوسرا اہم دورہ ہے، جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ دونوں ممالک کسی بڑے بریک تھرو کے قریب ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ اور شرائط
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتوار کے روز ہی ایران کے ساتھ ایک تاریخی معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سامنے آنے والے اہم نکات:

آبنائے ہرمز کی بندش کا خاتمہ: معاہدے کے فوری بعد اس حساس ترین بحری گزرگاہ کو سب کے لیے کھول دیا جائے گا۔

طویل مدتی تعاون: اگر خطے میں حالات پرامن رہے تو واشنگٹن جوہری مواد کی کھدائی سمیت طویل مدتی اقتصادی شراکت داری کے لیے تیار ہے۔

متبادل آپشنز: امریکی صدر نے خبردار بھی کیا کہ اگر یہ سفارتی عمل ناکام ہوا تو امریکہ کے پاس دیگر سخت متبادل راستے بھی موجود ہیں۔

پاکستان اور سعودی عرب کا سفارتی کردار
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی قطری ہم منصب شیخ محمد بن عبدالرحمن سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور اس تاریخی امن معاہدے کی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعظم آفس کے مطابق، پاکستان نے خلیجی بحران کے دوران قطر کی امن کوششوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ فریقین جلد اس پر دستخط کر دیں گے۔

دوسری جانب، پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فونک گفتگو کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے امید ظاہر کی کہ اتوار کو ہونے والے یہ ممکنہ دستخط خطے میں دیرپا امن کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔

ایران کا مؤقف: “اتوار کو دستخط نہیں ہوں گے”
ایرانی وزارتِ خارجہ کا باضابطہ بیان: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بغائی نے امریکی اور پاکستانی دعووں کے برعکس واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ معاہدے کے لیے ڈیجیٹل دستخطی تقریب اتوار کو منعقد نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مفاہمت کی یادداشت (MoU) کے عین وقت کا انتظار کرنا ہوگا اور دوسرے فریق کی عدم مطابقت (غیر مستقل مزاجی) کی وجہ سے ایسے حساس معاملات پر عوامی بیانات دیتے ہوئے احتیاط برتنی چاہیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں