اسلام آباد: پاکستان میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث پہلے ہی سفری اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے، ایسے میں گاڑی مالکان کو ایک اور بڑا جھٹکا لگنے والا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کردہ نئے بجٹ 2026-27 کے تحت اب گاڑی رکھنا اور اسے چلانا مزید مہنگا ہو جائے گا، کیونکہ دارالحکومت اسلام آباد میں گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں بھاری اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔
چھوٹی گاڑیوں پر فکسڈ ٹوکن ٹیکس کا نیا بوجھ
بجٹ 2026 کی تجاویز کے مطابق، ٹوکن ٹیکس کے ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر نظرثانی کی جا رہی ہے، جس کے تحت ٹیکس کی شرح کو گاڑی کے انجن کی صلاحیت (CC) اور اس کی اصل انوائس قیمت (Invoice Value) کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔
نئی تجویز کے تحت:
1000cc تک کی کاریں: ان چھوٹی اور مڈل کلاس کاروں پر اب سالانہ 20,000 روپے کا بھاری فکسڈ ٹوکن ٹیکس عائد کیا جائے گا، جو چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کی جیب پر ایک بڑا بوجھ ثابت ہوگا۔
مڈ رینج اور لگژری گاڑیوں کے لیے نئے ٹیکس ریٹس
درمیانے اور اعلیٰ درجے کی گاڑیوں کے لیے حکومت نے فکسڈ ٹیکس کے بجائے پرسنٹیج (فیصد) کا فارمولا تیار کیا ہے تاکہ زیادہ قیمت والی گاڑیوں سے زیادہ ٹیکس وصول کیا جا سکے:
مڈ رینج گاڑیاں (1001cc سے 2000cc): وہ گاڑیاں جو 1001cc سے 1300cc، 1301cc سے 1500cc، اور 1501cc سے 2000cc کے زمرے میں آتی ہیں، ان کے مالکان سے گاڑی کی اصل انوائس قیمت کا 0.25% ٹوکن ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
لگژری اور ہائی پاور گاڑیاں (2001cc اور اس سے اوپر): بڑی اور لگژری کاریں جن کی انجن کی صلاحیت 2001cc سے 2500cc یا اس سے بھی زیادہ ہے، ان پر انوائس ویلیو کا 0.35% ٹیکس لاگو ہوگا، جس سے مہنگی گاڑیوں کے صارفین کے اخراجات میں لاکھوں کا اضافہ ہو سکتا ہے۔
موٹر ٹیکسیوں اور کمرشل گاڑیوں کا نیا ٹیکس شیڈول
بجٹ مینوفیکچرنگ اور ٹیکسیشن پالیسی میں پبلک ٹرانسپورٹ اور موٹر ٹیکسیوں کے لیے بھی ٹوکن ٹیکس کا ایک الگ اور نیا نظام متعارف کروایا گیا ہے:
1000cc تک کی ٹیکسیاں: سالانہ 600 روپے ٹیکس ادا کریں گی۔
1001cc سے 1300cc تک کی ٹیکسیاں: ان سے 1,000 روپے وصول کیے جائیں گے۔
1301cc سے 1500cc تک کی ٹیکسیاں: ان پر 1,700 روپے ٹیکس لاگو ہوگا۔
2500cc سے اوپر کی کمرشل ٹیکسیاں: ان کو سالانہ 4,200 روپے ٹیکس کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس کے علاوہ، ٹیکس جمع کرنے والے حکام نے اس نظرثانی شدہ نیٹ ورک کا دائرہ کار پبلک ٹرانسپورٹ کی دیگر بڑی گاڑیوں اور کمرشل کارگو گاڑیوں تک بھی وسیع کر دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئے مالیاتی بل میں ٹرانسپورٹ کے پورے شعبے پر ٹیکسوں کا گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔

