امریکا کی ریاست فلوریڈا کی پام بیچ کاؤنٹی میں ایک کاروباری جیٹ طیارہ عمودی غوطہ کھاتے ہوئے زمین سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا جس میں سوار تمام 9 افراد ہلاک ہو گئے۔
ٹیکساس کے شہر آسٹن سے بہاماس جانے والا یہ طیارہ محض 60 سے 70 سیکنڈ کے اندر معمول کی پرواز سے تباہی کا شکار ہوا۔
طیارہ رہائشی مکانات اور ٹریفک سے محض چند فٹ کے فاصلے پر گرا، تاہم زمین پر موجود کوئی شہری ہلاک یا شدید زخمی نہیں ہوا۔
امریکا کی ریاست فلوریڈا کی پام بیچ کاؤنٹی کے علاقے گرین ایکرز میں پیش آنے والے ایک ہولناک فلوریڈا جیٹ طیارہ حادثہ کے نتیجے میں جہاز میں سوار تمام نو افراد زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔ مقامی حکام نے اس واقعے کو ایک انتہائی خوفناک سانحہ قرار دیا ہے، جہاں ایک نجی کاروباری طیارہ فضا سے کسی میزائل کی طرح سیدھا زمین پر آ گرا اور خوفناک آگ کے گولے میں تبدیل ہو گیا۔
The pilot’s name in today’s deadly crash in Palm Beach, Florida was Nathalia Filgueiras. Private pilot who can be heard on the audio saying “Jack” whom was her boyfriend.
Rest in peace, Nathalia. https://t.co/AUvGURQ3MR
— Boomer’s Ghost (@BoomersGhost) November 2, 2026
There are reports circulating that Alexandra Dudgeon was the pilot on Learjet 60 that was communicating with ATC before the tragic accident. If you look at her airman certificate, it lines up.
She was qualified on the Lear 60 and other Lear aircrafts. But, if you look at the bottom, her limits were LR-JET LR-60 SIC PRIVILEGES ONLY. This means she can pilot the plane, but she can only be second in command, she can’t captain the plane. So, it is adding up and making sense that this person could potentially be one of the victims and the one that was talking to ATC. God Bless her and the other victims!
— Jet (@_jetgaming) November 2, 2026
ستر سیکنڈ میں تباہی اور کاک پٹ میں پائلٹ کے آخری لمحات
حکام کے مطابق بمبارڈیئر لیر جیٹ 60 نامی یہ طیارہ (رجسٹریشن نمبر این 722 بی ڈی) یکم نومبر کو ٹیکساس کے آسٹن برگسٹروم انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بہاماس کے علاقے شمالی ایلیوتھیرا کے لیے روانہ ہوا تھا۔ پرواز نے ابتدائی طور پر 41 ہزار فٹ تک کی بلندی حاصل کی اور پھر مشرق کی جانب بڑھتے ہوئے 35 ہزار فٹ کی بلندی پر محوِ پرواز رہا۔ فلوریڈا کی فضائی حدود میں داخل ہونے پر پائلٹوں نے درمیانے درجے کے فضائی جھٹکوں، بارش اور منفی 47 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت میں ہلکی برف باری کی اطلاع دی، تاہم اسے قابلِ کنٹرول قرار دیتے ہوئے میامی سینٹر سے 37 ہزار فٹ کی بلندی پر جانے کی اجازت طلب کی۔
بلندی بڑھانے کی کلیئرنس ملنے کے فوراً بعد طیارہ محض 60 سے 70 سیکنڈ کے اندر معمول کے سفر سے تباہی کی جانب چلا گیا۔ فلائٹ ریڈار کے اعداد و شمار کے مطابق طیارے کے نیچے گرنے کی رفتار آٹھ ہزار فٹ فی منٹ سے بڑھتے ہوئے 30 ہزار فٹ فی منٹ کی خطرناک حد سے بھی تجاوز کر گئی۔ اس دوران طیارہ تقریباً 60 ڈگری کے زاویے پر جھک چکا تھا۔ ریڈیو رابطے پر ایک خاتون پائلٹ کی آواز سنی گئی جو پرسکون انداز سے اچانک شدید گھبراہٹ میں بدل گئی؛ انہوں نے حد سے زیادہ رفتار اور جھکاؤ کی اطلاع دیتے ہوئے آخری لمحات میں خبردار کیا کہ وہ زمین سے ٹکرانے والے ہیں۔
رہائشی علاقے میں تباہی اور وفاقی اداروں کی تحقیقات
ڈیش کیم فوٹیج میں دیکھا گیا کہ طیارہ گرین ایکرز اور کریسٹ ہیون کے علاقے میں ملٹری ٹریل اور ٹینتھ ایونیو نارتھ کے قریب عمودی غوطہ کھاتے ہوئے زمین سے ٹکرایا، جس سے سڑک کے کنارے ایک گہرا گڑھا پڑ گیا۔ جہاز رہائشی مکانات اور چلتی ٹریفک سے محض چند فٹ کے فاصلے پر گرا، جس کے نتیجے میں بجلی کی تاریں اور پانی کی بڑی لائنیں منقطع ہو گئیں اور ملبہ دور دور تک بکھر گیا۔ خوش قسمتی سے زمین پر موجود کسی شہری کے جاں بحق یا شدید زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
تقریباً 22 سال پرانا یہ طیارہ ڈیلاویئر کی ایک کمپنی کی ملکیت تھا اور اس نے حادثے سے ایک روز قبل 31 اکتوبر کو آرکنساس کے شہر لٹل راک سے آسٹن کے لیے اڑان بھری تھی۔ ہلاک ہونے والے نو مسافروں اور عملے کے ارکان کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ اور فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کی خصوصی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ چکی ہیں، جو موسم کی خرابی، برف جمنے کے اثرات، تکنیکی خرابی اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہیں۔
