حوثی حملوں کے باعث امریکی عملے کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم اور ریاض میں امریکی سفارت خانے کا سیکیورٹی الرٹ

امریکی عملے کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم: ہنگامی الرٹ

امریکا نے بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر سعودی عرب میں تعینات اپنے غیر ہنگامی سرکاری عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔

ریاض میں امریکی سفارت خانے نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں کی جانب سے شہری ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حملوں کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

سعودی عرب میں موجود دیگر امریکی سرکاری ملازمین کو کسی بھی ہوائی اڈے کے استعمال سے قبل اپنے مشن چیف سے خصوصی اجازت لینے کا پابند بنایا گیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی اور سنگین سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر امریکی عملے کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ ریاض میں قائم امریکی سفارت خانے نے حوثی فورسز کے پے در پے حملوں اور خطے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث اپنے غیر ہنگامی سرکاری اہلکاروں اور ان کے خاندان کے افراد کو فوری انخلا کی ہدایت جاری کی ہے۔

امریکی سفارت خانے کا سیکیورٹی الرٹ اور حوثی حملوں کے خطرات

رپورٹ کے مطابق، ریاض میں موجود امریکی سفارت خانے نے سعودی عرب میں کام کرنے والے تمام امریکی سفارتی مشنز کے لیے ایک ہنگامی سیکیورٹی الرٹ جاری کیا ہے۔ اس الرٹ میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی فورسز کی جانب سے لاحق سنگین خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے، جو مسلسل سعودی سرزمین کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

مزید برآں، سفارت خانے کے اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ حوثیوں کی ان عسکری کارروائیوں میں شہری ہوائی اڈوں اور دیگر حساس انفراسٹرکچر کو براہِ راست نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں نہ صرف معصوم شہریوں کی ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات سامنے آئے ہیں، بلکہ فضائی سفر اور پروازوں کے شیڈول میں بھی شدید تعطل پیدا ہوا ہے۔

سفارتی عملے کے لیے کڑی سفری شرائط اور کشیدگی پھیلنے کا خدشہ

امریکی سفارت خانے نے متنبہ کیا ہے کہ خطے میں جاری یہ کشیدگی کسی بھی وقت اپنے موجودہ دائرہ کار سے باہر نکل سکتی ہے، جس کے نتیجے میں سیکیورٹی کے مزید پیچیدہ خطرات جنم لے سکتے ہیں۔ چنانچہ، غیر ہنگامی عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو واپس بلانے کے ساتھ ساتھ، سعودی عرب میں رکنے والے دیگر امریکی سرکاری ملازمین کے لیے بھی سخت حفاظتی گائیڈ لائنز جاری کی گئی ہیں۔

نئی سیکیورٹی ایڈوائزری کے تحت، امریکی حکام اور ملازمین کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ حوثی حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کے کسی بھی ہوائی اڈے کو استعمال کرنے سے قبل اپنے مشن چیف سے باقاعدہ تحریری منظوری حاصل کریں۔ اس کے علاوہ، تمام امریکی اہلکاروں کو سعودی عرب کے اندرونی شہروں میں نقل و حرکت کے دوران بھی انتہائی احتیاط برتنے کی تاکید کی گئی ہے۔

فضائی سفر پر اثرات اور اوورسیز کمیونٹی کے لیے صورتحال کی اہمیت

سعودی عرب کے شہری ہوائی اڈوں کے حوالے سے جاری ہونے والا یہ امریکی سیکیورٹی الرٹ بین الاقوامی مسافر بردار پروازوں اور خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں تارکینِ وطن کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ بالخصوص کینیڈا، شمالی امریکا اور یورپ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی، جو عمرہ کی ادائیگی یا پاکستان سفر کے دوران سعودی ایئرپورٹس اور فضائی گزرگاہوں کا کثرت سے استعمال کرتی ہے، اس بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر فضائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ نہ رکا تو بین الاقوامی ایئرلائنز اپنے فلائٹ روٹس میں ہنگامی تبدیلیاں کرنے پر مجبور ہو سکتی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں