یمن میں ماریب جانے والے امدادی ٹرک پر مبینہ ڈرون حملہ اور پاکستانی ڈرائیور کی ہلاکت

یمن میں امدادی ٹرک پر مبینہ ڈرون حملہ، پاکستانی ڈرائیور جاں بحق: یمنی حکومتی فورسز

یمنی حکومتی فورسز کے مطابق صوبہ ماریب کی جانب جانے والے امدادی سامان سے لدے ٹرک پر مبینہ ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک پاکستانی ڈرائیور جاں بحق ہو گیا۔

یمن کی ایمرجنسی فورسز نے الزام لگایا ہے کہ عسکریت پسند حوثی گروپ صحرائی راستوں پر متحرک یونٹس کے ذریعے سویلین گاڑیوں اور ترسیل کو نشانہ بنا رہا ہے۔

واقعے پر پاکستانی حکام کا باضابطہ بیان تاحال سامنے نہیں آیا ہے، جبکہ ماریب، تعز اور بحیرہ احمر کی ساحلی پٹی پر کشیدگی اور انسانی بحران میں شدید اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

صنعاء: یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومتی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ عسکریت پسند حوثی گروپ کی جانب سے صوبہ ماریب جانے والے انسانی امداد کے ایک ٹرک پر ڈرون حملہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں گاڑی چلانے والا پاکستانی ڈرائیور مبینہ طور پر جاں بحق ہو گیا ہے۔ اس واقعے کے حوالے سے پاکستانی سفارتی حکام یا وزارتِ خارجہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم یمنی سیکیورٹی اداروں نے اس حملے کو انتہائی سنگین کارروائی قرار دیا ہے۔

ماریب روٹ پر ڈرون حملہ اور یمنی فورسز کے الزامات
یمن کی ایمرجنسی فورسز کے فرسٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق، حوثی گروپ نے دور دراز صحرائی گزرگاہوں اور مواصلاتی راستوں پر اپنے چھوٹے اور متحرک موبائل دستوں کے ذریعے یہ کارروائی کی ہے۔ بیان میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ باغی عسکریت پسند گوریلا طرز پر گھات لگا کر اور ڈرونز کے ذریعے سویلین ٹرانسپورٹ اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھیجے جانے والے سامان کی ترسیل کو مسلسل خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

حکومتی فورسز نے نشاندہی کی کہ اس سے چند ہفتے قبل بھی حوثیوں پر دو سویلین ٹرکوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا تھا، جس میں ایک طبی کانفرنس سے واپس آنے والے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف سمیت 5 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ ماریب کا خطہ شدید لڑائی اور پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کے سبب بیرونی امداد پر گہرا انحصار رکھتا ہے، اور ایسے راستوں کو نشانہ بنانا خطے میں بنیادی اشیاء کی فراہمی کو مفلوج کر رہا ہے۔

یمن کی خانہ جنگی میں شدت اور آبنائے باب المندب کے خطرات
یمن میں طویل عرصے سے جاری خانہ جنگی ایک بار پھر سنگین رخ اختیار کر چکی ہے، جہاں ایرانی حمایت یافتہ حوثی تحریک اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی سرکاری فوج کے مابین ماریب، تعز اور بحیرہ احمر کی ساحلی پٹی پر خونریز جھڑپوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ تازہ جھڑپیں بین الاقوامی بحری گزرگاہ آبنائے باب المندب کی سیکیورٹی کے لیے نئے اور سنگین خطرات پیدا کر رہی ہیں، جو عالمی سطح پر تجارتی جہاز رانی کا ایک کلیدی راستہ ہے۔

میدانِ جنگ میں بڑھتی ہوئی اس عسکری کشیدگی نے عام شہریوں کو ایک بار پھر بے گھر ہونے اور خوراک و ادویات کی شدید قلت کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ امدادی قافلوں اور بین الاقوامی ڈرائیوروں کو نشانہ بنائے جانے سے فلاحی اداروں کی سرگرمیاں تعطل کا شکار ہو سکتی ہیں، جس سے پہلے سے نڈھال یمنی عوام کے انسانی بحران میں مزید اضافہ ہوگا۔

اوورسیز پاکستانی محنت کشوں کا تحفظ اور کینیڈین سفارتی تناظر
مشرقِ وسطیٰ اور تنازعات کے شکار خطوں میں ہزاروں پاکستانی محنت کش بطور ہیوی ٹرانسپورٹ ڈرائیور، سپلائی چین ورکرز اور تکنیکی عملہ خدمات انجام دے رہے ہیں، جو انتہائی کٹھن حالات میں رزقِ حلال کماتے ہیں۔ یمن جیسے ہائی رسک جنگی علاقوں میں پاکستانی محنت کشوں کا متاثر ہونا اوورسیز پاکستانی کمیونٹی اور کینیڈا میں مقیم تارکینِ وطن کے لیے گہرے رنج اور تشویش کا باعث ہے۔

کینیڈین پاکستانی خارجہ امور کے مبصرین کے مطابق حکومتِ پاکستان کو فوری طور پر سفارتی چینلز کے ذریعے واقعے کی تصدیق کر کے اپنے شہریوں کی میت کی باحفاظت واپسی اور معاوضے کے اقدامات کرنے چاہئیں۔ کینیڈا اور بین الاقوامی برادری کے انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق امدادی مشنز اور سویلین ورکرز کو عسکری تنازعات میں نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس پر عالمی اداروں کو ٹھوس نوٹس لینا چاہیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں