پاک فوج کے ترجمان کے مطابق پاکستان ایران اور امریکا کے مابین مذاکرات میں سہولت کاری کے کردار پر محتاط طور پر پر امید ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے رواں ماہ دو بار ایران کا نتیجہ خیز دورہ کیا، جس میں سعودی وزیر دفاع اور ترک انٹیلی جنس چیف بھی شریک ہوئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ مکہ کے مشترکہ دفاعی معاہدے کے الفاظ کسی نئے ملک کی شمولیت پر پابندی نہیں لگاتے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان ایران امریکا ثالثی اور دونوں ممالک کے درمیان بات چیت میں سہولت کاری کے حوالے سے اپنے کردار پر محتاط طور پر پر امید ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز (Reuters) کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی و عسکری کاوشوں کو انتہائی مثبت قرار دیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہِ ایران اور امن کی راہ میں حائل رکاوٹیں
راولپنڈی میں گفتگو کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ایک ہی مہینے میں دو بار ایران کے دوروں کو انتہائی سود مند قرار دیا۔ دوروں کے مقاصد اور نتائج سے متعلق سوال کے جواب میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ اگر پہلا دورہ نتیجہ خیز نہ ہوتا تو فیلڈ مارشل دوسری مرتبہ تہران کا سفر اختیار نہ کرتے۔
تاہم، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کسی مخصوص فریق کا نام لیے بغیر خبردار کیا کہ چند طاقتور عناصر اب بھی امن کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں اور ثالثی کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، کیونکہ ان عناصر کے نزدیک تنازعے کا جاری رہنا ہی ان کے مفادات کے حق میں ہے۔ اس کے باوجود، انہوں نے سفارتی نزاکتوں کے پیشِ نظر ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی اندرونی تفصیلات یا اس عمل میں امریکی حمایت کی نوعیت پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اور ایران کی شمولیت کا امکان
حال ہی میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ حکام کے ہمراہ تہران کا اہم دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت اور ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ اس اعلیٰ سطحی وفد میں سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکی کے انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم قالن بھی شامل تھے۔ تہران میں ہونے والی ان ملاقاتوں کے بعد ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ خطے کی سلامتی کو بیرونی مداخلت کے بغیر علاقائی ممالک کو خود یقینی بنانا چاہیے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والے “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” میں ایران کی ممکنہ شمولیت کے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ معاہدے کے الفاظ کسی بھی نئے رکن کو شامل ہونے سے نہیں روکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو بھی ملک مشترکہ دفاع اور علاقائی امن کے اس وژن سے اتفاق کرتا ہے، اس کا خیرمقدم کیا جا سکتا ہے، البتہ کسی نئے ملک کو شامل کرنے کا حتمی فیصلہ تینوں بانی ممالک کی سیاسی قیادت ہی کرے گی۔ واضح رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے رواں سال 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں اس تاریخی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
حرمین شریفین کا دفاع اور یمن تنازعے پر پاکستان کا مؤقف
مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب میں اضافی پاکستانی افواج کی تعیناتی سے متعلق سوال پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ ایسا کوئی بھی قدم زمینی حقائق، موجودہ صورتحال اور دونوں برادر ممالک کی سیاسی قیادت کے فیصلوں سے مشروط ہوگا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سعودی عرب، بالخصوص مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مقدس شہروں کے دفاع کے لیے ہر دم پرعزم ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ پاکستان یمن کے تنازعے میں کسی بھی طرح فریق نہیں ہے اور اسے یمن کا اندرونی معاملہ سمجھتا ہے۔
علاقائی سفارت کاری اور اوورسیز پاکستانیوں کا نقطہ نظر
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پاکستان کی جانب سے سعودی عرب، ترکی اور ایران کو ایک میز پر لانے اور امریکا و ایران کے درمیان فاصلے کم کرنے کی کوششیں عالمی سطح پر اسلام آباد کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ کینیڈا، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں مقیم لاکھوں اوورسیز پاکستانی اس فعال سفارت کاری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، کیونکہ خلیجی خطے اور ایران میں امن کا براہِ راست تعلق عالمی معاشی استحکام اور پاکستان کی معاشی و جغرافیائی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔
