روس اور یوکرین کے سرکاری ایمرجنسی الرٹ سسٹمز پر بڑے پیمانے پر سائبر حملے کیے گئے ہیں جن میں جعلی جوہری حملوں کی وارننگز جاری کی گئیں۔
روسی ایمرجنسی ایپ پر ہیکرز نے یوکرین کی جانب سے جوہری ڈرونز فائر کیے جانے کا جھوٹا پیغام بھیجا اور شہریوں کو تین ہفتوں کا راشن جمع کرنے کی ہدایت کی۔
یہ سائبر حملے جنوبی یوکرین کے علاقے اولیشکی میں چھ روزہ عارضی جنگ بندی ختم ہونے کے عین وقت پر سامنے آئے جس سے شہریوں میں شدید خوف پھیل گیا۔
روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی میں اس وقت ایک نیا اور خطرناک موڑ آ گیا جب ہیکرز کی جانب سے جاری کردہ روس یوکرین جعلی جوہری الرٹ نے دونوں ممالک کے شہریوں کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا۔ ماسکو اور کیف کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ ان کے سرکاری ایمرجنسی الرٹ سسٹمز اور موبائل ایپلی کیشنز کو بڑے پیمانے پر سائبر حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے ذریعے جوہری ہتھیاروں سے لیس ڈرون حملوں کے من گھڑت پیغامات پھیلائے گئے۔
روسی ایمرجنسی ایپ پر ایٹمی ڈرونز کی جھوٹی وارننگ اور راشن ذخیرہ کرنے کی ہدایت
روس کی وزارتِ ہنگامی صورتحال کے مطابق، ان کی سرکاری ایمرجنسی الرٹ ایپلی کیشن پر ایک منظم سائبر حملہ کیا گیا، جس نے ہیکرز کو لاکھوں صارفین تک جھوٹے نوٹیفکیشنز بھیجنے کے قابل بنا دیا۔ اس جعلی انتباہ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یوکرینی افواج نے روس کے تمام علاقوں کی جانب جوہری ہتھیاروں سے لیس ڈرونز روانہ کر دیے ہیں۔
مزید برآں، اس گمراہ کن پیغام میں روسی شہریوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ کم از کم تین ہفتوں کے لیے خوراک، پینے کا پانی اور دیگر ضروری سامان فوری طور پر ذخیرہ کر لیں اور محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہو جائیں۔ اگرچہ روسی حکام نے فوری طور پر اس جوہری خطرے کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ ملک کا بنیادی عوامی وارننگ سسٹم مکمل طور پر محفوظ اور فعال ہے، تاہم ماسکو نے تاحال اس سائبر حملے کے ذمہ دار کسی مخصوص گروہ یا ملک کا نام ظاہر نہیں کیا ہے۔

یوکرینی وارننگ سسٹم پر حملہ اور اولیشکی میں چھ روزہ جنگ بندی کا اختتام
روسی اعلان سے محض چند گھنٹے قبل، یوکرین کی فضائی حملے سے خبردار کرنے والی سرکاری ایپلی کیشن کو بھی اسی نوعیت کے سائبر حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ کیف کے حکام نے اس ہیکنگ کا براہِ راست ذمہ دار روس کو ٹھہراتے ہوئے اپنے شہریوں کو متنبہ کیا کہ وہ ایپ پر نظر آنے والے مشکوک پیغامات پر کان نہ دھریں اور صرف تصدیق شدہ سرکاری مواصلاتی چینلز پر بھروسہ کریں۔
واضح رہے کہ ان سائبر حملوں کا وقت انتہائی معنی خیز ہے، کیونکہ یوکرینی ایپ پر جعلی پیغامات جنوبی کھیرسن کے روسی زیرِ قبضہ قصبے اولیشکی میں چھ روزہ جنگ بندی ختم ہونے سے چند منٹ قبل نمودار ہوئے۔ اس عارضی جنگ بندی کے دوران انسانی ہمدردی کی بنیاد پر چلائے گئے آپریشن میں سیکڑوں پھنسے ہوئے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا تھا۔ اولیشکی آپریشن کے لیے روسی کوآرڈینیٹر یانا لانتراتووا اور یوکرینی حکام دونوں نے عندیہ دیا ہے کہ عسکری اختلافات کے باوجود شہریوں کے تحفظ کے لیے ایسے انسانی مشنز مستقبل میں بھی جاری رکھے جائیں گے۔
