لاہور کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس 509 تک پہنچ گیا ہے جس کے بعد شہر ایک بار پھر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست آ گیا ہے۔
علامہ اقبال ٹاؤن میں فضائی آلودگی کی شرح خطرناک ترین سطح 836 اور برکی روڈ پیراگون میں 776 ریکارڈ کی گئی ہے۔
محکمہ ماحولیات نے اینٹی اسموگ گنز تعینات کر کے صنعتی یونٹس پر چھ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا اور ایک اینٹوں کا بھٹہ سیل کر دیا۔
پنجاب کے دارالحکومت میں لاہور میں اسموگ اور فضائی آلودگی کی ایک نئی اور انتہائی خطرناک لہر نے شہریوں کی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں، جس کے بعد مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس 500 کی حد عبور کرتے ہوئے 509 تک جا پہنچا ہے۔ اس تشویشناک صورتحال کے پیشِ نظر پنجاب حکومت کے حکام نے شہر کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں فضا میں معلق زہریلے ذرات کو بٹھانے کے لیے خصوصی اینٹی اسموگ گنز میدان میں اتار دی ہیں۔

علامہ اقبال ٹاؤن سرفہرست اور شہر کے مختلف علاقوں میں آلودگی کی شرح
لاہور ایک بار پھر دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے، جبکہ شہر کے چند گنجان آباد علاقوں میں فضائی معیار کی صورتحال مجموعی اوسط سے بھی کہیں زیادہ ابتر ہے۔ انفرادی مانیٹرنگ اسٹیشنوں کے اعداد و شمار کے مطابق علامہ اقبال ٹاؤن میں ایئر کوالٹی انڈیکس حیران کن طور پر 836 کی خطرناک ترین سطح پر ریکارڈ کیا گیا۔
مزید برآں، برکی روڈ پیراگون کے علاقے میں آلودگی کا انڈیکس 776 اور ماڈل ٹاؤن کے اے بلاک میں 553 رہا۔ اس کے علاوہ بیدیاں ٹھٹھہ روڈ پر یہ شرح 455 اور ڈی ایچ اے فیز فائیو میں 424 ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کے مطابق ہوا کی کم رفتار نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، کیونکہ کمزور ہواؤں کے باعث زہریلے ذرات قدرتی طور پر منتشر ہونے کے بجائے رہائشی علاقوں کی فضا میں ہی رکے ہوئے ہیں۔
اینٹی اسموگ گنز کا استعمال اور صنعتی یونٹس کے خلاف کریک ڈاؤن
شدید دھند اور اسموگ کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مصروف شاہراہوں، صنعتی زونز اور تعمیراتی دھول مٹی سے متاثرہ مقامات پر اینٹی اسموگ گنز کے ذریعے پانی کی باریک بوندوں کا چھڑکاؤ کیا جا رہا ہے۔ اس مشینی آپریشن کے ساتھ ساتھ صوبائی انتظامیہ نے آلودگی پھیلانے والے صنعتی و تجارتی مراکز کے خلاف بھی گھیرا تنگ کر دیا ہے۔
گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ماحولیاتی ٹیموں نے پنجاب بھر میں 35 صنعتی یونٹس کا معائنہ کیا اور ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر مجموعی طور پر چھ لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے۔ اسی طرح انسپکٹرز نے 66 اینٹوں کے بھٹوں کی چیکنگ کے دوران دھواں چھوڑنے پر ایک بھٹے کو فوری طور پر سیل کر دیا۔

ڈرون سرویلنس، پلاسٹک کے خلاف کارروائی اور طبی ماہرین کی وارننگ
پنجاب کی انسدادِ اسموگ مہم کو اب چوبیس گھنٹے کی نگرانی میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جس کے لیے خصوصی ڈرون ٹیمیں، نائٹ اسکواڈز اور ہاک آئی فیلڈ اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ اس مہم کے دوران کمرشل فوڈ پوائنٹس کے علاوہ غیر معیاری پلاسٹک کے خلاف 24 مقامات پر چھاپے مار کر 18 کلو گرام ممنوعہ مواد بھی ضبط کیا گیا۔ دوسری جانب فضائی آلودگی میں اس خطرناک اضافے سے بچوں، بزرگوں اور دل و پھیپھڑوں کے عارضے میں مبتلا افراد میں سانس کی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ کینیڈا اور دیگر ممالک سے موسمِ سرما میں لاہور کا سفر کرنے والے اوورسیز پاکستانیوں کو بھی طبی ماہرین کی جانب سے ماسک کے استعمال اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔
