مشرقِ وسطیٰ میں بڑی جنگ کا خطرہ: امریکی حملوں کے جواب میں ایران کا امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملہ، MQ-9 ڈرون گرانے کا دعویٰ

تہران: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب ایک ہولناک علاقائی جنگ میں تبدیل ہوتی نظر آ رہی ہے۔ جنوبی ایران کے اندر اہداف پر امریکی بمباری کے ردِعمل میں تہران نے خلیج اور عرب ممالک میں قائم متعدد امریکی تنصیبات اور ایران کا امریکی اڈوں پر حملہ کرنے کا باضابطہ دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی عسکری حکام کے مطابق یہ کارروائیاں امریکی جارحیت کا براہِ راست اور متناسب جواب ہیں۔

بحرین، اردن اور کویت میں امریکی ٹھکانوں پر ڈرون اور میزائل حملے
ایران کے خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں خطے کے مختلف ممالک میں موجود امریکی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی گئی ہے:

اردن (الازرق فوجی اڈہ): ایرانی میڈیا کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب نے اردن میں قائم امریکی الازرق فوجی اڈے پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل داغے۔ اس کارروائی میں F-35 لڑاکا طیاروں کے لیے استعمال ہونے والی پناہ گاہوں اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سمیت 4 اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

بحرین (امریکی پانچواں بحری بیڑا): ایرانی فورسز نے بحرین میں تعینات امریکی پانچویں بحری بیڑے کے خلاف کئی خودکش ڈرون حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور انتباہ دیا ہے کہ امریکی کارروائیوں کا سلسلہ نہ رکا تو مزید سخت جواب دیا جائے گا۔

کویت (علی السلم ایئر بیس): پاسدارانِ انقلاب نے کویت میں واقع امریکی علی السلم ایئر بیس پر بھی ڈرون حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تاہم، کویت کی فوج کا کہنا ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام (Air Defense) نے دشمن کے خطرات کو کامیابی سے ہوا میں ہی ناکام بنا دیا۔

امریکی ڈرون MQ-9 مار گرانے کا دعویٰ اور املاک کا نقصان
روسی اور مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایرانی دفاعی نظام نے جام کے علاقے میں مہم جوئی کرنے والے جدید امریکی جنگی ڈرون MQ-9 کو بھی مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

دوسری جانب، پاسدارانِ انقلاب نے تسلیم کیا ہے کہ اس سے قبل ہونے والے امریکی حملوں کے نتیجے میں سرک کے علاقے میں ایک ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور کو نقصان پہنچا تھا اور پانی ذخیرہ کرنے والے دو بڑے ٹینک تباہ ہوئے تھے۔

امریکی سنٹرل کمانڈ (CENTCOM) کا موقف
امریکی سنٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے اس سے قبل مطلع کیا تھا کہ انہوں نے 9 جون کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کے اندر اپنے دفاع میں فضائی حملے مکمل کر لیے ہیں۔ پینٹاگون کے مطابق یہ کارروائی گزشتہ روز آبنائے ہرمز کے قریب امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کے جواب میں کی گئی تھی۔ امریکی فضائیہ اور بحریہ کے لڑاکا طیاروں نے گائیڈڈ ہتھیاروں کی مدد سے آبنائے ہرمز کے پاس ایرانی فضائی دفاعی نظام، زمینی کنٹرول اسٹیشنوں اور نگرانی کے ریڈار سائٹس کو درست نشانہ بنایا تھا۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا آخری انتباہ: “سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک پوسٹ میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کو سخت الفاظ میں متنبہ کیا ہے کہ اگر وہ مزید تصادم اور جانی نقصان سے بچنا چاہتا ہے تو وہ بوریا بستر سمیٹ کر فوری طور پر خطے سے نکل جائے۔ خلیج فارس کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں فوجی مداخلت کرنے والی بیرونی طاقتوں کو ہمیشہ عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ایرانی مسلح افواج کسی بھی دھمکی کو لاجواب نہیں چھوڑیں گی۔”

اپنا تبصرہ لکھیں