وفاقی بجٹ 2026-27 بارہ جون کو پیش ہوگا: عوام، ملازمین اور تاجروں کے لیے کیا متوقع ہے؟

اسلام آباد: پاکستان کا معاشی روڈ میپ اور وفاقی بجٹ 2026-27 آئندہ جمعہ یعنی 12 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کے لیے تیار ہے۔ ملک بھر کے ٹیکس دہندگان، کاروباری برادری، تنخواہ دار طبقے اور سرمایہ کاروں کی نظریں اس اہم معاشی اعلان پر لگی ہوئی ہیں، جبکہ صدر مملکت کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس بلانے کی سمری بھی ارسال کر دی گئی ہے۔

پارلیمانی اجلاسوں کا شیڈول اور تاریخیں
بجٹ کی باضابطہ پیشکش سے قبل پارلیمانی کارروائی کا آغاز 10 جون سے ہوگا:

سینیٹ کا اجلاس: 10 جون کو شام 4:00 بجے طلب کیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس: 10 جون کو ہی شام 5:00 بجے متوقع ہے۔

بجٹ کی پیشکش: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب 12 جون کو قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں نیا مالیاتی بل پیش کریں گے، جس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دور میں معاشی انتظام کا خاکہ سامنے لایا جائے گا۔

معاشی اشاریہ / ہدف,متوقع اعداد و شمار
کل بجٹ حجم (تخمینہ),”تقریباً 17.1 ٹریلین (17,100 ارب) روپے”
ایف بی آر (FBR) ٹیکس وصولی کا ہدف,15.264 ٹریلین روپے (موجودہ سال سے زائد)
جی ڈی پی (GDP) شرح نمو کا ہدف,4 سے 4.1 فیصد
اوسط شرحِ افراط زر (مہنگائی),تقریباً 8.4 فیصد

ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور محصولات کا بھاری ہدف پورا کرنے کے لیے ایف بی آر خوردہ فروشوں (Retailers) اور غیر دستاویزی شعبوں کو رسمی معیشت میں شامل کرنے کے لیے سخت اقدامات کرے گا۔

سرکاری ملازمین اور تنخواہ دار طبقے کے لیے تجاویز
برسوں کی بڑھتی ہوئی کٹوتیوں اور رکی ہوئی آمدنی کے بعد تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریلیف اس بجٹ کا سب سے اہم پہلو بن چکا ہے۔ سرکاری ملازمین کے لیے درج ذیل اقدامات زیرِ غور ہیں:

سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں 7 سے 10 فیصد تک کا اضافہ متوقع ہے۔

تنخواہ دار افراد کے لیے انکم ٹیکس سلیب میں ممکنہ نظرثانی کی جا سکتی ہے۔

پنشنرز کے لیے معمولی اضافہ، کنوینس الاؤنسز میں بہتری اور کچھ ایڈہاک الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ترقیاتی اخراجات (PSDP) اور روزگار کے مواقع
حکومت سخت مالی حدود کے باوجود ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دینے کا ارادہ رکھتی ہے:

وفاق کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے لیے 1.1 سے 1.3 ٹریلین روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔

مشترکہ وفاقی اور صوبائی ترقیاتی اخراجات کا مجموعی حجم 4.7 ٹریلین روپے تک پہنچ سکتا ہے۔

مختلف ٹارگٹڈ انفراسٹرکچر اور زرعی منصوبوں کے ذریعے ملک میں 20 لاکھ تک نئی ملازمتیں پیدا کرنے کا ہدف بھی زیرِ غور ہے۔

تاجر برادری، سولر پینلز اور کسانوں کے لیے پالیسی
کاروباری اداروں کے لیے بجٹ ایک ملا جلا تاثر پیش کرے گا۔ حکومت چھوٹے تاجروں کے لیے آسان اسکیمیں لا رہی ہے، جبکہ صنعت کاروں کی جانب سے ‘سپر ٹیکس’ پر ریلیف کی درخواستوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

عام صارفین اور کسانوں کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ سولر پینلز اور کھادوں پر کسی بڑے ٹیکس اضافے کی توقع نہیں ہے۔ تاہم، درآمدات پر عائد ٹیکسوں اور پیٹرولیم لیوی میں ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے اضافی آمدنی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

قرضوں کی ادائیگی اور معاشی چیلنجز: معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریلیف کے تمام تر دعووں کے باوجود آئی ایم ایف کی کڑی شرائط، بیرونی قرضوں کی ادائیگی (Debt Servicing) اور دفاعی اخراجات بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ نگل جائیں گے۔ سود کی ادائیگیاں حکومت کا واحد سب سے بڑا اخراجات کا آئٹم رہیں گی، جس کی وجہ سے حکومت کے پاس عوام کو بڑی سبسڈیز یا فلاحی پروگرام دینے کی گنجائش انتہائی محدود ہوگی۔

اپنا تبصرہ لکھیں