آئی سی سی کا بڑا ایکشن: غیر تسلی بخش پچز پر قذافی اسٹیڈیم اور لارڈز کو ڈیمیرٹ پوائنٹس جاری

دبئی: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پچوں کے معیار پر سخت ایکشن لیتے ہوئے انگلینڈ کے تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ اور پاکستان کے مشہور قذافی اسٹیڈیم لاہور کی پچز کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا ہے۔ پچوں کا معیار عالمی معیار کے مطابق نہ ہونے پر آئی سی سی نے دونوں کرکٹ اسٹیڈیمز کو ایک ایک ڈیمیرٹ پوائنٹ (Demerit Point) جاری کر دیا ہے۔

لارڈز اور قذافی اسٹیڈیم کی پچز پر اعتراضات کی وجوہات
آئی سی سی کی پچ مانیٹرنگ ٹیم اور میچ ریفری کی رپورٹ کے مطابق دونوں میدانوں میں کھیلے گئے میچز کے دوران پچز کا رویہ کھیل کے حق میں بہتر نہیں تھا:

لارڈز کرکٹ گراؤنڈ (انگلینڈ): انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلے گئے ٹیسٹ میچ کے دوران پچ پر حد سے زیادہ سیون موومنٹ (Seam Movement) اور غیر معمولی باؤنس دیکھا گیا۔ آئی سی سی نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ کھیل کے صرف دو دنوں کے اندر پچ کی خراب صورتحال کے باعث 33 وکٹیں گر گئیں۔

قذافی اسٹیڈیم (لاہور): یہاں کھیلے گئے ایک روزہ (ODI) میچ کی پچ کو بین الاقوامی معیار سے کافی کم پایا گیا۔ میچ ریفری نے اپنی رپورٹ میں نوٹ کیا کہ پچ کی سطح انتہائی سست (Slow) تھی اور گیند بہت نیچی رہ رہی تھی، جس سے بیٹنگ کرنا انتہائی مشکل ہوا جبکہ اسپنرز کو میچ کے بالکل آغاز سے ہی غیر معمولی مدد ملنا شروع ہو گئی تھی۔

ڈیمیرٹ پوائنٹس کا قانون اور پابندی کا خطرہ
آئی سی سی کے ضوابط کے تحت، کسی بھی انٹرنیشنل وینیو کو غیر اطمینان بخش پچ پر ایک ڈیمیرٹ پوائنٹ دیا جاتا ہے اور یہ پوائنٹس مجموعی طور پر 5 سال تک اس گراؤنڈ کے ریکارڈ پر موجود رہتے ہیں۔

آئی سی سی کے قوانین کے مطابق اسٹیڈیمز پر پابندی کا طریقہ کار درج ذیل ہے:

اگر کوئی بھی کرکٹ اسٹیڈیم 5 سال کے دوران 6 ڈیمیرٹ پوائنٹس جمع کر لیتا ہے، تو اس پر ایک سال کے لیے بین الاقوامی کرکٹ میچز کی میزبانی کرنے پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔

اگر ڈیمیرٹ پوائنٹس کی تعداد بڑھ کر 12 ہو جائے، تو اس مخصوص اسٹیڈیم پر دو سال کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ کی میزبانی کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔

پی سی بی اور ای سی بی کے پاس اپیل کا وقت
اپیل کے لیے 14 دن کی مہلت: آئی سی سی نے پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) اور انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ECB) دونوں کو اس فیصلے کے خلاف باضابطہ اپیل دائر کرنے کے لیے 14 دن کا وقت دیا ہے۔ خوش قسمتی سے، اس فیصلے سے پہلے لارڈز یا قذافی اسٹیڈیم دونوں کے پاس ریکارڈ پر کوئی پرانا ڈیمیرٹ پوائنٹ موجود نہیں تھا، جس کی وجہ سے فی الحال دونوں میدانوں پر پابندی کا کوئی فوری خطرہ نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں