نیا پاکستان ہاؤسنگ خواب کا خاتمہ: وفاقی حکومت کا NAPHDA کو بند کرنے کا حتمی فیصلہ

اسلام آباد: تحریک انصاف (PTI) کے دورِ حکومت میں کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے سستی رہائش کا خواب دکھانے والے فلیگ شپ پروگرام کا باضابطہ خاتمہ ہونے جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت نے رائٹسائزنگ اور اخراجات میں کمی کی جاری اصلاحات کے تحت NAPHDA (نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کو مستقل طور پر بند کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔

کابینہ کی منظوری اور منسوخی بل کا مسودہ تیار
یہ بڑا اقدام وفاقی کابینہ کی جانب سے اتھارٹی کو ختم کرنے اور “NAPHDA ایکٹ 2020” کو منسوخ کرنے کی اصولی تجویز کی منظوری کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ قانون و انصاف ڈویژن سے باضابطہ قانونی کلیئرنس حاصل کرنے کے بعد اس ایکٹ کو ختم کرنے کے لیے منسوخی بل کا مسودہ بھی تیار کیا جا چکا ہے، جسے جلد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔

حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ ادارے کی کارکردگی کے تفصیلی جائزے اور کابینہ کمیٹی برائے حقوق (Rightsizing Committee) کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

NAPHDA کی اب تک کی کارکردگی پر ایک نظر
پاکستان میں ہاؤسنگ کے شدید بحران اور لگ بھگ 10 ملین (ایک کروڑ) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اس ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا تھا، جس کا ابتدائی ہدف پچاس لاکھ سستے گھروں کی فراہمی تھا۔ اپنے آپریشنل دورانیے میں ادارے نے درج ذیل سرگرمیاں انجام دیں:

ہاؤسنگ یونٹس کی منصوبہ بندی: پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے اسلام آباد، لاہور، سرگودھا، چنیوٹ اور نوشہرہ میں 1 لاکھ سے زیادہ ہاؤسنگ یونٹس کے منصوبے شروع کیے گئے۔

اخوت فاؤنڈیشن کا تعاون: مالیاقی اشتراک کے ذریعے تقریباً 28,000 مستحق خاندانوں کو گھروں کی تعمیر میں سہولت دی گئی۔

میرا پاکستان میرا گھر اسکیم: اس پروگرام کے تحت 31,000 سے زائد ہاؤسنگ یونٹس کی مالی معاونت کی گئی۔

کمرشل بینکوں کے ہوم لون: ہاؤسنگ فنانسنگ کو وسعت دیتے ہوئے کمرشل بینکوں نے جون 2022 تک اس مد میں تقریباً 120 ارب روپے کے سبسڈی والے ہوم لون تقسیم کیے۔

ناکامی کی وجوہات اور پچاس لاکھ گھروں کا ہدف
اہداف اور حقائق کا تصادم: اگرچہ اس منصوبے کے عزائم انتہائی بلند تھے اور ہزاروں ہاؤسنگ یونٹس کی سہولت فراہم بھی کی گئی، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ عملی پیش رفت پچاس لاکھ گھروں کے اصل وعدے سے بہت کم رہی۔ تعمیراتی لاگت میں بے پناہ اضافہ، فنڈز کی شدید قلت، زمین کے حصول (Land Acquisition) میں رکاوٹیں، ریگولیٹری پیچیدگیاں اور مختلف محکموں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان اس منصوبے کی سست روی کی بڑی وجوہات بنے۔

نیا متبادل فریم ورک: وزیراعظم کا ’اپنا گھر‘ پروگرام
اتھارٹی کو بند کرنے کے باوجود، مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں قائم اتحادی حکومت کا دعویٰ ہے کہ سستی رہائش کی فراہمی اب بھی ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق، مستقبل میں ہاؤسنگ کے تمام تر اقدامات متبادل اور نئے فریم ورک کے تحت جاری رکھے جائیں گے، جس میں وزیر اعظم کا اپنا گھر پروگرام نمایاں ہے، جو نئے مکان مالکان کے لیے رعایتی اور آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی پر توجہ مرکوز کرے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں