لاہور میں تاریخ کا سب سے بڑا ای چالان ڈیفالٹر گرفتار، 20 لاکھ روپے سے زائد کا جرمانہ پینڈنگ

لاہور: لاہور ٹریفک پولیس نے شہر کی تاریخ کی ایک انتہائی غیر معمولی اور بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایک ایسے موٹر سائیکل سوار کو حراست میں لے لیا ہے جس کے سر پر 20 لاکھ (2.08 ملین) روپے سے زائد کے غیر ادا شدہ ای چالان کا حیران کن بوجھ تھا۔ ٹریفک پولیس کی جانب سے یہ گرفتاری معمول کی چیکنگ اور گاڑیوں کی تصدیق کے دوران عمل میں لائی گئی۔

ملزم کی شناخت اور 421 گاڑیوں کا ریکارڈ
ٹریفک وارڈنز کے ہتھے چڑھے اس منفرد اور سب سے بڑے نادہندہ کی شناخت باز محمد کے نام سے ہوئی ہے۔ جب پولیس حکام نے جدید ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے ملزم کے کوائف اور گاڑیوں کی تصدیق کی، تو ایک سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا:

ملزم باز محمد کے نام پر موٹر سائیکلوں اور رکشوں سمیت کل 421 گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق، ان تمام گاڑیوں پر مجموعی طور پر 2,088,800 روپے کا ای-چالان جرمانہ بغیر ادائیگی کے جمع ہو چکا ہے۔

اتنی خطیر رقم کے واجب الادا ہونے کے باعث یہ شخص صوبائی دارالحکومت میں اب تک کا سب سے بڑا ٹریفک جرمانے کا نادہندہ بن چکا ہے۔

موٹر سائیکل ضبط اور تمام گاڑیاں بلیک لسٹ
تصدیق کا عمل مکمل ہوتے ہی ٹریفک پولیس نے موقع پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کے زیرِ استعمال موٹر سائیکل کو فوری طور پر قبضے میں لے کر تھانہ مسلم ٹاؤن منتقل کر دیا، جبکہ ملزم کے خلاف مزید قانونی و انتظامی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

چیف ٹریفک آفیسر (CTO) رحیم شیرازی کے مطابق، محکمہ نے فوری ایکشن لیتے ہوئے باز محمد کے نام پر رجسٹرڈ تمام 421 گاڑیوں کو بلیک لسٹ کر دیا ہے۔ جب تک ان تمام چالانوں کے بقایا جات کی مکمل ادائیگی نہیں ہو جاتی، ملزم ان گاڑیوں کی رجسٹریشن، ٹرانسفر یا ایکسائز مینیجمنٹ سے منسلک کسی بھی قسم کی دوسری سروسز حاصل کرنے کا اہل نہیں رہے گا۔

سیریل ڈیفالٹرز کے خلاف گھیرا تنگ
سی ٹی او لاہور کا اہم بیان: “لاہور ٹریفک پولیس نے شہر بھر میں ٹریفک قوانین کی مسلسل اور عادی خلاف ورزی کرنے والے سیریل ڈیفالٹرز کے خلاف ایک جارحانہ مہم شروع کر رکھی ہے۔ اس کریک ڈاؤن کے تحت اب تک 1 لاکھ سے زائد ایسی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو بلیک لسٹ کیا جا چکا ہے جن کے ذمے ای-چالان پینڈنگ تھے۔”

ٹریفک حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ آپریشن تمام شہریوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ بڑھتے ہوئے ای-چالان جرمانوں کو اب مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ڈیجیٹل ٹریکنگ اور نفاذ کے جدید طریقہ کار کے باعث اب قانون کی گرفت سے بچنا ممکن نہیں رہا اور روزانہ کی بنیاد پر ایسے عادی خلاف ورزی کرنے والوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں