دہلی میں بڑے احتجاج کی تیاریاں، ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ کا مطالبہ

نئی دہلی: بھارت میں نوجوانوں کی توجہ حاصل کرنے والی نئی احتجاجی تحریک کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے اپنی پہلی پریس کانفرنس کا باضابطہ انعقاد کیا ہے۔ پریس کانفرنس میں تحریک کے رہنماؤں نے ملک کے تعلیمی نظام میں اصلاحات کا ایجنڈا سامنے رکھتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے اور 6 جون کو نئی دہلی میں احتجاجی سرگرمیوں کا اعلان کر دیا ہے۔

6 جون کو دہلی میں احتجاج اور جنتر منتر کا پلان
کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان سوربھ داس نے پریس کانفرنس کے دوران احتجاج کا لائحہ عمل بتاتے ہوئے درج ذیل اہم اعلانات کیے:

بانی کی آمد: تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے 6 جون کی صبح 8 بجے دہلی پہنچیں گے۔

استقبالیہ مارچ: حامیوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کریں اور وہاں سے پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن جائیں۔

سرکاری اجازت کی کوشش: پارٹی رہنما جنتر منتر پر پرامن احتجاج کرنے کے لیے انتظامیہ سے سرکاری اجازت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

خفیہ فنڈنگ کے الزامات پر ترجمان کا کرارا جواب
پریس کانفرنس کے دوران جب تحریک کی فنڈنگ سے متعلق سوالات اٹھائے گئے تو ترجمان سوربھ داس نے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ سی جے پی کے خلاف ایک منظم “جوابی بیانیہ” تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ:

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی عوامی تحریک زور پکڑتی ہے، تو اس پر بیرونی مداخلت یا خفیہ فنڈنگ کے الزامات لگا دیے جاتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ پوسٹرز صرف چند سو روپے میں بنائے گئے ہیں اور تحریک میں شامل زیادہ تر نوجوان اپنی جیب سے خرچہ اٹھا کر یہاں پہنچے ہیں۔

یہ ہندوستان کی تاریخ کی سب سے شفاف عوامی تحریک ہے۔

طنزیہ ردعمل سے تعلیمی نظام کی اصلاحات تک کا سفر
ترجمان نے تحریک کے آغاز پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ کوئی روایتی سیاسی جماعت نہیں بلکہ نوجوانوں کی بے چینی کا ایک متبادل اظہار ہے۔

تحریک کا پس منظر: “اگر لوگ ابھیجیت دیپکے کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو چیک کریں تو انہیں پتہ چل جائے گا کہ یہ تحریک ایک طنزیہ ردعمل کے طور پر شروع ہوئی تھی۔ ایک موقع پر بھارتی نوجوانوں کو ’کاکروچ‘ کہا گیا، جس کے بعد نوجوانوں کی جانب سے یہ غیر معمولی ردعمل آیا جو ظاہر کرتا ہے کہ ملک کا نوجوان مایوسی، بے یقینی اور ناامیدی کا شکار ہے۔”

سوربھ داس نے الزام لگایا کہ موجودہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنی ذمہ داریوں کو مؤثر طریقے سے نبھانے میں مکمل ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال تحریک کا واحد ایجنڈا وزیر تعلیم کا استعفیٰ ہے، جس کے بعد شفافیت اور احتساب کے اصولوں کے تحت اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ یہ تحریک حالیہ ہفتوں میں امتحانی نظام میں مبینہ خرابیوں، پیپر لیک، بے روزگاری اور تعلیمی پالیسیوں کے خلاف نوجوانوں کے غصے کے بعد ایک وسیع تر مہم کی شکل اختیار کر چکی ہے، جسے سوشل میڈیا پر بھی شدید مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں