کراس بارڈر محبت :لڑکی سے ملنے ایل او سی پار کرنے والا پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر میں گرفتار

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کو مبینہ طور پر بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر کی ایک لڑکی کی محبت میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) عبور کرنے پر حراست میں لے لیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ‘کراس بارڈر محبت’ کا ایک انوکھا مگر انتہائی خطرناک کیس بن کر سامنے آیا ہے۔

اڑی سیکٹر میں گرفتاری اور لڑکی سے رابطہ
تفصیلات کے مطابق، مظفرآباد کے نواحی گاؤں سے تعلق رکھنے والے ‘ذیشان’ نامی نوجوان کا مقبوضہ کشمیر کی ایک لڑکی ‘ارم بانو’ سے رابطہ تھا۔ ذیشان اس سے ملنے کے لیے بغیر کسی قانونی سفری دستاویزات کے اڑی سیکٹر کے راستے سرحد پار داخل ہوا۔ بھارتی سیکیورٹی فورسز نے اڑی سیکٹر میں معمول کی سیکیورٹی چیکنگ کے دوران ذیشان کو مشکوک جان کر گرفتار کر لیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ نوجوان کی گرفتاری کے بعد جب موبائل ڈیٹا اور تفتیش کی گئی تو مقامی لڑکی ارم بانو کے ساتھ اس کا رابطہ سامنے آیا، جس کے بعد ارم بانو کو بھی پوچھ گچھ کے لیے فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا ہے۔

پاکستان کی قونصلر رسائی کی درخواست
اس حساس معاملے کے سامنے آنے کے بعد سفارتی حلقے بھی متحرک ہو گئے ہیں۔ سفارتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے بھارت کی حراست میں لیے گئے اس پاکستانی نوجوان تک قونصلر رسائی (Consular Access) کی باضابطہ درخواست کر دی ہے۔

پاکستانی ہائی کمیشن کا اقدام: نئی دہلی میں قائم پاکستانی ہائی کمیشن نے باضابطہ طور پر ہندوستانی وزارت خارجہ کو ایک خط ارسال کیا ہے، جس میں نوجوان سے ملاقات کی اجازت مانگی گئی ہے تاکہ اس کی شناخت کی حتمی تصدیق کی جا سکے اور اسے قانونی معاونت فراہم کرنے کا طریقہ کار شروع کیا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں