لاہور: پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے صوبے بھر کے نجی اسکولوں میں سمر کیمپ کے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (SOPs) کی خلاف ورزیوں کا سخت نوٹس لے لیا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ تعلیمی اداروں کی کڑی نگرانی کریں اور حکومتی ہدایات پر عملدرآمد نہ کرنے والے اسکولوں کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔
سمر کیمپ کے لیے منظور شدہ دن اور اوقات
محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران نصابی سرگرمیوں کے لیے قائم کیے جانے والے کیمپس کے لیے درج ذیل شیڈول پر عمل کرنا لازمی ہے:
کیمپ کا کل دورانیہ: سمر کیمپ صرف 1 جون سے 30 جون تک یعنی زیادہ سے زیادہ ایک ماہ کی مدت کے لیے منعقد کیے جا سکتے ہیں۔
مقررہ دن: یہ کیمپس صرف پیر سے جمعرات تک لگائے جائیں گے۔
ہفتہ وار چھٹی: جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو سمر کیمپ مکمل بند رہیں گے۔
روزمرہ کے اوقات: کیمپ صرف صبح کے وقت صبح 7:00 بجے سے صبح 10:00 بجے کے درمیان چلیں گے۔ اوقات کو منظور شدہ شیڈول سے آگے بڑھانا سختی سے ممنوع ہے۔
فیس، یونیفارم اور لازمی سہولیات کے سخت قوانین
وزیر تعلیم نے واضح کیا ہے کہ اسکول انتظامیہ اپنی مرضی سے سمر کیمپ نہیں چلا سکتی اور اس کے لیے سخت شرائط طے کی گئی ہیں:
اضافی فیس پر مکمل پابندی: پرائیویٹ اور سرکاری اسکولوں یا اساتذہ کی جانب سے ان سمر کیمپس کے لیے طلباء سے کوئی بھی اضافی یا ٹیوشن فیس نہیں لی جائے گی۔
والدین کی تحریری رضامندی: طلباء کے لیے سمر کیمپ میں شرکت کرنا لازمی نہیں ہے۔ اسکول انتظامیہ والدین کی رضامندی کے بغیر کسی بھی طالب علم کو زبردستی شامل نہیں کر سکتی۔
یونیفارم سے استثنیٰ: تمام شریک طلباء کو اسکول یونیفارم پہننے سے مکمل مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ وہ موسم کے موافق کوئی بھی آرام دہ لباس پہن سکتے ہیں۔
انڈور کلاسز کا انعقاد: اسکول انتظامیہ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ تمام تعلیمی سرگرمیاں اور کلاسیں صرف کلاس رومز یا انڈور ہالز کے اندر منعقد ہوں۔
بنیادی ضروری سہولیات کی فراہمی لازمی: محکمہ تعلیم نے اسکولوں کو پابند کیا ہے کہ وہ کیمپ کے دوران بچوں کے لیے صفائی، پینے کے صاف اور ٹھنڈے پانی، پنکھے، بیٹھنے کے مناسب انتظامات، بجلی کے متبادل بیک اپ (Inverter/Generator) اور ضروری سامان سے لیس فرسٹ ایڈ باکس کی دستیابی کو ہر صورت یقینی بنائیں۔
وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے والدین پر زور دیا ہے کہ اگر کوئی بھی اسکول ان قوانین کی خلاف ورزی کرے، اوقات سے تجاوز کرے یا زبردستی اضافی فیس کا مطالبہ کرے، تو فوری طور پر محکمہ کے شکایت سیل میں اس کی اطلاع دیں تاکہ اسکول کے خلاف فوری کارروائی کی جا سکے۔
