اٹلی میں لرزہ خیز واقعہ: 4 تارکین وطن مزدوروں کو زندہ جلانے کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار

روما/ریگیو کیلیبریا: جنوبی اٹلی کے علاقے کلابریا میں اسٹیٹ روڈ 106 پر واقع ایک پیٹرول اسٹیشن پر ایک انتہائی لرزہ خیز اور پرتشدد واقعہ پیش آیا ہے، جہاں تارکینِ وطن زرعی مزدوروں کو لے جانے والی ایک منی وین کو آگ لگا دی گئی۔ اس ہولناک واقعے میں چار مزدوروں کو زندہ جلا دیا گیا، جن میں تین افغان اور ایک پاکستانی شہری شامل ہے۔ اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اس وحشیانہ حملے کے الزام میں دو پاکستانی شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

سی سی ٹی وی (CCTV) فوٹیج نے اہم سراغ فراہم کیا
پولیس حکام کے مطابق، پیٹرول اسٹیشن پر نصب سیکیورٹی کیمروں کی فوٹیج کیس کا مرکزی حصہ بن چکی ہے۔ اس فوٹیج میں آگ لگنے سے کچھ دیر پہلے دو افراد کو منی وین کے قریب مشکوک کارروائیاں کرتے دیکھا گیا، جس میں گاڑی سے باہر نکلنے کا راستہ بلاک کرنا اور آتش گیر مادے کا استعمال شامل ہے۔

یہ ہلاکتیں کلابریا کے علاقے امینڈولارا کے قریب پیش آئیں، جہاں جلی ہوئی منی وین سے چاروں لاشیں برآمد ہوئیں۔ مقتولین سیباریٹائڈ کے علاقے میں کھٹی پھلوں اور زیتون کی کٹائی کا موسمی کام کرتے تھے، جہاں کی زراعت کا بڑا انحصار غیر ملکی مزدوروں پر ہے۔

ٹرانسپورٹ کے پیسوں کا تنازع اور زندہ بچ جانے والے کی گواہی
اس ہولناک واقعے میں ایک افغان کارکُن گاڑی کی کھڑکی توڑ کر فرار ہونے میں کامیاب رہا، جو شدید جلنے کے باوجود زندہ بچ گیا ہے۔ اس نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ تمام متاثرین قریبی زرعی قصبے ولپیانا میں ایک ساتھ رہ رہے تھے۔

زندہ بچ جانے والے افغان شہری کا بیان: “یہ سارا جھگڑا ٹرانسپورٹ سروسز کی ادائیگی کے تنازع پر شروع ہوا۔ مشتبہ افراد نے ہم سے رقم کا مطالبہ کیا، اور جب ہم نے ادائیگی سے انکار کیا تو صورتحال سنگین ہو گئی اور انہوں نے منی وین کو آگ لگا دی۔”

عینی شاہد نے خطے میں تارکین وطن کارکنوں کے استحصال کے وسیع حالات، دھمکیوں اور ادائیگیوں کے غیر قانونی طریقوں کا بھی ذکر کیا ہے۔

پولیس کی فوری کارروائی اور گرفتاریاں
لاشیں ملنے کے تقریباً 36 گھنٹوں کے اندر کوسینزا پولیس اور کاسٹرو ویلاری کے پبلک پراسیکیوٹر آفس نے مشترکہ تحقیقات کے بعد دونوں مشتبہ پاکستانیوں کو ولپیانا سے تلاش کر کے حراست میں لے لیا۔ ان سے کوسینزا کے پولیس ہیڈ کوارٹر میں تفصیلی پوچھ گچھ کی گئی، جس کے بعد پراسیکیوٹرز کے حکم پر باقاعدہ گرفتاری عمل میں آئی۔ ملزمان کو متعدد سنگین قتل کے الزامات کا سامنا ہے۔

اطالوی حکومت کا ردِعمل اور مزدوروں کا استحصال
اطالوی حکام نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی سنگین قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ انسانی زندگی کو ڈسپوزایبل نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس واقعے نے جنوبی اٹلی کی زرعی معیشت میں کام کرنے والے غیر ملکی مزدوروں کے کٹھن حالات کی طرف دوبارہ دنیا کی توجہ مبذول کرائی ہے۔

ایشیا اور افریقہ سے آنے والے ان تارکین وطن کو اکثر درج ذیل مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے:

کام کے طویل اوقات کے باوجود انتہائی کم تنخواہ دی جاتی ہے۔

ٹرانسپورٹ اور رہائش کے نام پر ان کی اجرت سے بھاری کٹوتیاں کی جاتی ہیں۔

یہ مزدور بنیادی سہولیات سے محروم عارضی بستیوں میں رہتے ہیں اور کام کے لیے مڈل مین (ثالثوں) پر انحصار کرتے ہیں۔

اگرچہ حکومت نے ماضی میں لیبر اصلاحات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن یہ نظام اب بھی تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں