سابق قومی ویمنز کرکٹر کائنات امتیاز کی انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ اور میچ ریفری بننے کا اعلان

کائنات امتیاز کی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ، بطور میچ ریفری نئی اننگز کا آغاز

پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی دائیں ہاتھ کی فاسٹ باؤلر کائنات امتیاز نے 13 سالہ بین الاقوامی کرکٹ کیریئر پر پردہ ڈالتے ہوئے باضابطہ ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔

کائنات امتیاز نے پاکستان کی جانب سے 19 ون ڈے اور 21 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے اور وہ 2010 اور 2014 کے ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے والے قومی اسکواڈ کا حصہ رہیں۔

کھلاڑی کے طور پر ریٹائرمنٹ کے بعد کائنات اب کرکٹ کمنٹری اور بطور میچ ریفری گراؤنڈ میں امپائرنگ و آفیشٹنگ کی اہم ذمہ داریاں انجام دیں گی۔

لاہور: پاکستان کی معروف خاتون فاسٹ باؤلر کائنات امتیاز نے انٹرنیشنل کرکٹ کو خیرباد کہہ کر میچ ریفری اور کرکٹ آفیشل کے طور پر اپنے نئے کیریئر کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے کائنات امتیاز کے بین الاقوامی کیریئر کے باضابطہ اختتام کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد وہ اب باؤنڈری لائن کے اندر کھیلنے کے بجائے گراؤنڈ سے باہر کھیل کے انتظامی اور تکنیکی فیصلوں کی نگرانی کریں گی۔

13 سالہ انٹرنیشنل کیریئر اور ایشین گیمز کے تاریخی اعزازات
کائنات امتیاز نے اپنے بین الاقوامی سفر کا آغاز سال 2010 میں کیا تھا اور جلد ہی اپنی سوئنگ باؤلنگ اور لوئر آرڈر بیٹنگ کی صلاحیتوں کے باعث قومی ٹیم میں مستقل جگہ بنائی۔ انہوں نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 19 ایک روزہ (ون ڈے) اور 21 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز میں حصہ لیا۔ ان کا آخری ٹی ٹوئنٹی میچ 6 اکتوبر 2022 کو سلہٹ میں تھائی لینڈ کے خلاف تھا، جبکہ آخری ون ڈے انٹرنیشنل انہوں نے 18 جنوری 2023 کو برسبین میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلا تھا۔

کائنات کا سفر محض اعداد و شمار کا محتاج نہیں رہا بلکہ وہ پاکستان ویمنز کرکٹ کی سنہری تاریخ کا اہم حصہ رہیں۔ وہ گوانگزو ایشین گیمز 2010 اور انچیون ایشین گیمز 2014 میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والے قومی اسکواڈ کی کلیدی رکن تھیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے 2017 کے آئی سی سی ویمنز ون ڈے ورلڈ کپ اور برمنگھم میں منعقدہ کامن ویلتھ گیمز 2022 میں بھی پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا۔

کمنٹری سے میچ ریفرینگ تک: والدہ کے نقشِ قدم پر نیا سفر
کھیل کے میدان سے بتدریج فاصلہ پیدا ہونے کے باوجود کائنات کرکٹ سے الگ نہیں ہوئیں بلکہ انہوں نے کمنٹری کے شعبے میں اپنی مہارت کا لوہا منوایا اور اب باضابطہ طور پر میچ آفیشٹنگ اور ریفرینگ کا رخ کیا ہے۔ اس فیصلے کو غیر معمولی اہمیت اس لیے بھی حاصل ہے کیونکہ ان کی والدہ، سلیمہ امتیاز، آئی سی سی کے انٹرنیشنل پینل آف امپائرز میں شامل ہونے والی پاکستان کی تاریخ کی پہلی خاتون امپائر ہیں۔ سلیمہ امتیاز نے جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستان کی ہوم سیریز سمیت متعدد اہم ایونٹس میں امپائرنگ کے فرائض نبھائے ہیں۔

ماں اور بیٹی کا یہ جوڑا کرکٹ کی تاریخ میں منفرد مثال بن چکا ہے جہاں ماں آئی سی سی پینل پر امپائرنگ کر رہی ہیں اور اب بیٹی انٹرنیشنل کھلاڑی کے طور پر ریٹائر ہو کر میچ ریفری بننے جا رہی ہے۔ کھیلوں کے ماہرین کے مطابق کائنات امتیاز کا یہ اقدام پاکستان میں دیگر خواتین کرکٹرز کے لیے بھی ریٹائرمنٹ کے بعد کھیل کے ساتھ باوقار انداز میں جڑے رہنے کے نئے راستے کھولے گا۔

خواتین بااختیاری اور کینیڈین پاکستانی کمیونٹی کے لیے ترغیب
کائنات امتیاز کا کھلاڑی سے میچ ریفری بننے کا سفر پاکستان میں کھیلوں کے میدان میں صنفی روایات کو توڑنے اور خواتین کی بااختیاری کا روشن ثبوت ہے۔ کینیڈا اور دیگر مغربی ممالک میں مقیم اوورسیز پاکستانی کمیونٹی کھیلوں اور پیشہ ورانہ شعبوں میں خواتین کی پیش رفت کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، جہاں کھیلوں کی پالیسی سازی اور ریگولیشن میں خواتین کا کردار دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔

تارکینِ وطن کے لیے کائنات امتیاز اور ان کی والدہ سلیمہ امتیاز کا یہ تاریخی تسلسل ایک مثبت پیغام ہے کہ پاکستانی خواتین نہ صرف میدانِ عمل میں بلکہ عالمی سطح کے انتظامی، تادیبی اور فیصلہ ساز فورمز پر بھی پیشہ ورانہ قیادت فراہم کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں