پاکستان کے سابق فاسٹ باؤلر محمد عامر نے افغانستان پریمیئر لیگ (اے پی ایل) کے پلیئرز ڈرافٹ کے لیے باقاعدہ رجسٹریشن کروا لی ہے۔
محمد عامر نے برطانوی پاسپورٹ اور شہریت کی بنیاد پر غیر ملکی کھلاڑی کے طور پر اپنا اندراج کروایا ہے جس کے باعث انہیں پی سی بی سے این او سی لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ نے ڈرافٹ میں شامل دیگر پاکستانی کرکٹرز کو افغانستان پریمیئر لیگ کے لیے این او سی جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان کے سابق بائیں ہاتھ کے فاسٹ باؤلر نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے برطانوی شہری کی حیثیت سے اپنا نام ڈرافٹ میں درج کروا لیا ہے، جس کے بعد محمد عامر افغانستان پریمیئر لیگ میں ایکشن میں نظر آنے کے لیے تیار ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی پاسپورٹ حاصل کرنے کے بعد محمد عامر کو اس ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (این او سی) حاصل کرنے کی قانونی ضرورت نہیں رہے گی۔
برطانوی پاسپورٹ کا حصول اور پی سی بی کے این او سی سے استثنیٰ
تفصیلات کے مطابق محمد عامر نے افغانستان پریمیئر لیگ (اے پی ایل) کے پلیئرز ڈرافٹ کے لیے پاکستانی کھلاڑی کے بجائے برطانوی شہری کے کوٹے سے رجسٹریشن کروائی ہے۔ برطانوی شہریت اور پاسپورٹ رکھنے کی وجہ سے ان پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے وہ قوانین لاگو نہیں ہوتے جو پاکستانی پاسپورٹ پر کھیلنے والے کرکٹرز کے لیے غیر ملکی لیگز میں شرکت کو مشروط بناتے ہیں۔
مزید برآں، اس قانونی حیثیت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ پی سی بی کی اجازت یا این او سی کے بغیر دنیا بھر کی فرنچائز لیگز میں بطور مقامی یا اوورسیز برطانوی کھلاڑی حصہ لے سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ افغانستان پریمیئر لیگ کے کھلاڑیوں کا باضابطہ ڈرافٹ کل منعقد ہونے جا رہا ہے، جہاں مختلف فرنچائزز اپنے اسکواڈز کو حتمی شکل دیں گی۔
دیگر پاکستانی کھلاڑیوں کو این او سی دینے سے انکار
ایک طرف محمد عامر نے برطانوی شہریت کے ذریعے اپنی شرکت کی راہ ہموار کر لی ہے، تو دوسری جانب دیگر پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے صورتحال مختلف ہے۔ ذرائع کے مطابق متعدد پاکستانی کرکٹرز نے بھی افغانستان پریمیئر لیگ کے ڈرافٹ کے لیے پہلے ہی اپنی رجسٹریشن کروا رکھی تھی۔
تاہم، تازہ ترین رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس لیگ میں حصہ لینے کے خواہشمند پاکستانی کھلاڑیوں کو این او سی جاری نہ کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ پی سی بی کے اس فیصلے کے بعد پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے کرکٹرز کے لیے کل ہونے والے ڈرافٹ اور ٹورنامنٹ میں شرکت کے امکانات ختم ہو گئے ہیں۔
فرنچائز کرکٹ میں دوہری شہریت کا کردار اور اوورسیز شائقین کا نقطہ نظر
جدید فرنچائز کرکٹ کے دور میں محمد عامر کی جانب سے برطانوی پاسپورٹ پر مختلف لیگز میں شرکت کا فیصلہ پیشہ ور کھلاڑیوں کے بدلتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ کینیڈا، برطانیہ اور شمالی امریکا میں مقیم پاکستانی کرکٹ شائقین کے نزدیک غیر ملکی شہریت کھلاڑیوں کو کرکٹ بورڈز کی سخت این او سی پالیسیوں سے آزاد کر کے عالمی لیگز میں کھیلنے کے وسیع مواقع فراہم کرتی ہے۔ کل ہونے والے اے پی ایل ڈرافٹ میں شائقین کی نظریں اس بات پر مرکوز ہوں گی کہ کون سی فرنچائز تجربہ کار فاسٹ باؤلر کو اپنی ٹیم کا حصہ بناتی ہے۔
