سولر پینل کی قیمتوں میں بھاری اضافے کا امکان، نئے بجٹ میں ٹیکس بڑھانے کی تجویز

کراچی: پاکستان میں جہاں بجلی کے بھاری بلوں نے عوام کا جینا محال کر رکھا ہے، وہاں سولر پینل مہنگی بجلی سے نجات حاصل کرنے کا واحد اور بہترین ذریعہ بن چکے ہیں۔ ملک کی 24 کروڑ 50 لاکھ سے زائد آبادی میں اب گھروں کی چھتیں چھوٹے پاور اسٹیشنز میں تبدیل ہو رہی ہیں، جہاں متوسط طبقہ اپنی جمع پونجی لگا کر یوٹیلیٹی بلوں میں بچت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم، اب ان پینلز کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑے اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

نئے بجٹ میں سیلز ٹیکس 18 فیصد کرنے کی تجویز
وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2026-27 کے آئندہ بجٹ میں سولر پینلز پر عائد جنرل سیلز ٹیکس (GST) کو موجودہ 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی اہم تجویز زیرِ غور ہے۔ اگر اس تجویز پر عمل درآمد کر دیا گیا تو عوام کے لیے شمسی توانائی کا نظام (Solar System) لگوانا انتہائی مہنگا اور مشکل ہو جائے گا، جس سے کئی متوسط خاندانوں کے لیے گرین انرجی کا حصول خواب بن جائے گا۔

قیمتوں میں کتنا اضافہ متوقع ہے؟
مارکیٹ کے مینوفیکچررز اور تاجروں کے ابتدائی اندازوں کے مطابق، ٹیکس کی شرح میں اس اضافے کے بعد اوسط درجے کا ایک سولر پینل تقریباً 1,800 روپے سے لے کر 2,400 روپے فی یونٹ تک مہنگا ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پورے سولر سسٹم کی مجموعی تنصیب (Installation) کی لاگت میں ہزاروں روپے کا اضافی بوجھ غریب اور مڈل کلاس صارفین پر پڑے گا۔

آئی ایم ایف کا دباؤ اور معاشی ماہرین کی تشویش
حکومت اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ ایک نئے اور طویل مدتی بیل آؤٹ پیکیج کے لیے مذاکرات میں مصروف ہے۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں پاکستان پر مسلسل یہ دباؤ ہے کہ وہ اپنی ٹیکس نیٹ کو وسیع کرے اور مختلف شعبوں کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ کو فوری طور پر ختم کرے۔

اقتصادی ماہرین کی رائے: معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر بجٹ میں ان ٹیکس تبدیلیوں کو منظور کیا گیا، تو اس سے ملک میں قابلِ تجدید توانائی (Renewable Energy) خصوصاً شمسی توانائی کے فروغ کو شدید نقصان پہنچے گا۔ تاہم، اس حوالے سے حتمی فیصلہ آئندہ بجٹ کے باضابطہ اعلان میں ہی سامنے آئے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں