ابراہم معاہدے میں شمولیت کی خبریں جھوٹ ہیں، اسرائیل پر پاکستان کا موقف نہیں بدل سکتا: اسحاق ڈار

اسلام آباد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ابراہم معاہدے میں توسیع کی تجاویز کے بعد پیدا ہونے والی سفارتی ہلچل پر پاکستان نے اپنا حتمی اور واضح موقف سامنے رکھ دیا ہے۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے تہران سے منسلک وسیع تر سفارتی کوششوں کے تحت پاکستان سمیت متعدد ممالک پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی تھی، جسے یکسر مسترد کر دیا گیا ہے۔

یہودی ریاست کے قیام پر پاکستان کا مستقل موقف
جنوبی ایشیائی ملک نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کے حوالے سے اس کی دیرینہ اور تاریخی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ پاکستان روزِ اول سے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی سخت پالیسی پر قائم ہے، جس کی واضح عکاسی پاکستانی پاسپورٹ پر بھی ہوتی ہے جہاں صاف الفاظ میں درج ہے کہ “یہ پاسپورٹ اسرائیل کے علاوہ دنیا کے تمام ممالک کے لیے کارآمد ہے”۔

اسحاق ڈار کی واشنگٹن میں اہم میڈیا بریفنگ
سفارتی حلقوں میں گردش کرنے والی افواہوں کا خاتمہ کرنے کے لیے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے واشنگٹن میں ایک ہائی پروفائل پریس کانفرنس کی ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے بعد پاکستانی سفارت خانے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ابراہم معاہدے کا حصہ بننے کے امکانات کو مکمل طور پر ختم کر دیا۔

وزیرِ خارجہ کا بیان: “اسرائیل اور فلسطین کے معاملے پر پاکستان کی پالیسی بالکل واضح، مستقل اور غیر گفت و شنید ہے، اس معاملے پر کسی قسم کی لچک یا تبدیلی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔”

آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی شرط
نائب وزیرِ اعظم نے اعادہ کیا کہ پاکستان اس وقت تک اپنے اصولی موقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے گا جب تک:

1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو جاتی۔

اس آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ‘مشرقِ یروشلم’ (القدس الشریف) کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ اور فلسطین کے مظلوم عوام کے ساتھ اسلام آباد کی یکجہتی برقرار ہے اور اسرائیل کو کسی بھی قسم کے سفارتی تعلقات کی بات کرنے سے پہلے فلسطینیوں کو ان کا بنیادی حق دینا ہوگا۔

ابراہم معاہدہ اور ٹرمپ کی نئی حکمتِ عملی
یہ پورا معاملہ اس وقت سرخیوں میں آیا جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق اپنے مستقبل کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے ابراہم معاہدے کا حوالہ دیا۔ یاد رہے کہ ابراہم ایکارڈز کا آغاز 2020 میں ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان رسمی تعلقات قائم کروانا تھا۔ تاہم، پاکستان نے اقوامِ متحدہ اور عالمی سطح پر ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اپنے پیغام کی مستقل مزاجی ثابت کر دی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں