واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ایران جنگ بندی معاہدے پر ہونے والا ایک انتہائی اہم اور ہائی لیول اجلاس بغیر کسی حتمی فیصلے کے ختم ہو گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ہونے والی یہ اہم بیٹھک تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہی، جس میں ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا، تاہم فریقین کسی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہے۔
آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور امریکی موقف
یہ اہم اجلاس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں اپنی بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا، تاکہ پہلے سے روکے گئے تجارتی جہازوں کو دوبارہ گزرنے کی اجازت مل سکے۔
صدر ٹرمپ نے خطے میں امریکی بحریہ کے آپریشنز کو “کامیاب” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کو تحفظ ملا ہے۔ تاہم، دوسری جانب صورتحال بالکل مختلف نظر آ رہی ہے۔
ایران نے ٹرمپ کے دعوؤں کو ‘جھوٹی فتح’ قرار دے کر مسترد کر دیا
ایران نے ممکنہ رعایتوں کے بارے میں صدر ٹرمپ کے بیانات کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی موقف کے مطابق، ٹرمپ کا یہ دعویٰ بالکل غلط ہے کہ ایران اپنے افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنے اور آبنائے ہرمز کو غیر مشروط طور پر دوبارہ کھولنے پر راضی ہو گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ‘فارس’ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ:
امریکی صدر کے دعوے سچائی اور مبالغہ آرائی کا امتزاج ہیں، اور وہ ایک “جھوٹی فتح” کا بیانیہ پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
زیرِ بحث معاہدے کے مسودے میں وہ نکات شامل ہی نہیں ہیں جن کا ڈھنڈورا امریکی صدر پیٹ رہے ہیں۔
ٹرمپ نے جان بوجھ کر ان شقوں کا ذکر نہیں کیا جو ایران کے حق میں ہیں، جیسے کہ اربوں ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں مکمل جنگ بندی کے اقدامات۔
معاہدے کا مستقبل غیر یقینی
وائٹ ہاؤس کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ سچویشن روم کا اجلاس بغیر کسی معاہدے یا قرارداد کے ختم ہوا ہے اور اس کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ چونکہ دونوں فریقین اب بھی اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں، اس لیے ایران کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی کی توسیع کا مستقبل اب شدید غیر یقینی کا شکار ہو گیا ہے۔
