اکتوبر 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی 9.61 فیصد جبکہ ماہانہ بنیادوں پر 1.08 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
رواں مالی سال کے ابتدائی چار ماہ کے دوران ملک میں اوسط مہنگائی کا تناسب 10.05 فیصد رہا۔
اکتوبر کے دوران چکن 19.38 فیصد، چنے کی دال 9.17 فیصد، گندم 9.01 فیصد اور آٹا 7.54 فیصد مہنگا ہوا، جبکہ ٹماٹر کی قیمت میں 31.63 فیصد کمی واقع ہوئی۔
اسلام آباد میں وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق کھانے پینے کی بنیادی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے باعث اکتوبر 2026 میں سالانہ بنیادوں پر پاکستان میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 9.61 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے مہینے میں ماہانہ بنیادوں پر افراطِ زر میں 1.08 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر دیہی علاقوں کے صارفین پر پڑا ہے۔
شہری و دیہی علاقوں کا موازنہ اور خوراک کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ
پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے مطابق اکتوبر 2025 کے مقابلے میں اکتوبر 2026 کے دوران مجموعی مہنگائی 9.61 فیصد زیادہ رہی، جبکہ رواں مالی سال کے پہلے چار مہینوں میں اوسط مہنگائی 10.05 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ ماہانہ اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو اکتوبر میں شہری علاقوں میں مہنگائی کی رفتار 0.81 فیصد رہی، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ تناسب تقریباً دگنا یعنی 1.49 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
مزید برآں، اکتوبر کے دوران خوراک کے شعبے میں ماہانہ بنیادوں پر 2.26 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ روزمرہ استعمال کی جن اشیا کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ان میں چکن سرفہرست رہا جو ایک ماہ میں 19.38 فیصد مہنگا ہوا۔ اس کے علاوہ چنے کی دال کی قیمت میں 9.17 فیصد، گندم میں 9.01 فیصد اور گندم کے آٹے میں 7.54 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح تازہ سبزیاں 6.55 فیصد، انڈے 5.72 فیصد اور دال ماش 5.54 فیصد مہنگی ہوئیں۔ دوسری جانب چند اشیا کی قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی، جن میں ٹماٹر 31.63 فیصد، پیاز 4.23 فیصد، آلو 4.04 فیصد اور چینی 2.17 فیصد سستی ہوئی۔
ٹرانسپورٹ، توانائی اور ادویات سمیت دیگر شعبوں کی صورتحال
ادارہ شماریات کی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانے پینے کی اشیا کے علاوہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں اکتوبر کے دوران 1.79 فیصد مہنگائی بڑھی، جبکہ رہائش، بجلی، گیس اور ایندھن کے مجموعی اخراجات میں 0.25 فیصد اضافہ ہوا۔ انفرادی زمرے میں مائع ہائیڈرو کاربن کی قیمتیں 8.39 فیصد اور موٹر فیول یعنی گاڑیوں کے ایندھن کی قیمتیں 3 فیصد بڑھیں۔
اس کے علاوہ سوتی کپڑوں کے نرخوں میں 1.22 فیصد، مکانات کے کرائے میں 0.94 فیصد اور ادویات کی قیمتوں میں 0.90 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم، صارفین کے لیے ریلیف کی بات یہ رہی کہ اکتوبر کے دوران بجلی کے نرخوں میں 3.31 فیصد اور متفرق اشیا و خدمات کی قیمتوں میں 0.71 فیصد کمی واقع ہوئی۔
گھریلو بجٹ پر اثرات اور اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر کا کردار
اگرچہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سالانہ مہنگائی سنگل ڈیجٹ یعنی دس فیصد سے نیچے برقرار ہے، تاہم گندم، آٹے، دالوں اور ادویات جیسی بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عام آدمی کی قوتِ خرید کو براہِ راست متاثر کر رہا ہے۔ کینیڈا، شمالی امریکا اور مشرقِ وسطیٰ میں مقیم اوورسیز پاکستانی، جو ہر ماہ اپنے خاندانوں کی کفالت کے لیے پاکستان رقوم بھیجتے ہیں، ان کے نزدیک خوراک اور علاج معالجے کے بڑھتے ہوئے اخراجات گھریلو بجٹ کو منظم کرنا مشکل بنا رہے ہیں۔ ماہرینِ معیشت کا ماننا ہے کہ دیہی اور شہری آبادی کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے کے لیے اشیائے خوردونوش کی سپلائی چین اور توانائی کی قیمتوں میں پائیدار استحکام لانا ناگزیر ہے۔
