مظفر گڑھ کے علاقے جتوئی میں وراثتی زمین اپنے نام منتقل کرنے سے انکار پر سگے بھائی نے آٹھ ماہ کی حاملہ بہن کو گولی مار کر قتل کر دیا۔
مقتولہ ممتاز مائی پہلے ہی ایک بچے کی ماں تھی اور اس کا شوہر روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب میں مقیم ہے۔
تھانہ جتوئی پولیس نے مقتولہ کی ساس کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کر کے مفرور ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں۔
پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ میں جائیداد کے لالچ نے خونی رشتے کا تقدس پامال کر دیا، جہاں مظفر گڑھ میں بھائی کے ہاتھوں بہن قتل کا ایک انتہائی دلخراش واقعہ پیش آیا ہے۔ وراثت میں ملنے والی زمین اپنے نام منتقل کرنے سے انکار پر ملزم نے اپنی آٹھ ماہ کی حاملہ بہن کو فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا اور موقع سے فرار ہو گیا۔
کولڈ ڈرنک پلانے کے بعد فائرنگ اور تھانہ جتوئی میں مقدمہ درج
پولیس حکام کے مطابق اس لرزہ خیز واردات کا مقدمہ مقتولہ کی ساس کی شکایت پر تھانہ جتوئی میں درج کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے متن میں مدعیہ نے بتایا کہ ان کی بہو ممتاز مائی پہلے سے ایک بچے کی ماں تھی اور اس وقت آٹھ ماہ کی حاملہ تھی۔ مقتولہ کو وراثت میں چار کنال سے زائد زرعی اراضی ملی تھی، جسے اس کا بھائی زبردستی اپنے نام منتقل کروانا چاہتا تھا۔
مقدمے کے اندراج کے مطابق، وقوعہ کے روز ممتاز مائی نے مہمان نوازی کرتے ہوئے قریبی دکان سے منگوا کر اپنے بھائی کو کولڈ ڈرنک پلائی۔ تاہم، کولڈ ڈرنک پینے کے فوراً بعد ملزم نے ایک بار پھر اپنی بہن سے مطالبہ کیا کہ وہ چار کنال وراثتی زمین اس کے نام منتقل کر دے۔ جب حاملہ بہن نے اپنا شرعی اور قانونی حق چھوڑنے سے انکار کیا تو ملزم نے طیش میں آ کر اس پر سیدھی گولی چلا دی، جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی۔
سعودی عرب میں مقیم محنت کش کا اجڑتا گھر اور پولیس کی کارروائی
ایف آئی آر میں مزید بتایا گیا ہے کہ مقتولہ ممتاز مائی کا شوہر اپنے خاندان کےبہتر مستقبل کی خاطر سعودی عرب میں محنت مزدوری کرتا ہے۔ شوہر کی بیرونِ ملک موجودگی کے دوران پیش آنے والے اس سانحے نے پورے خاندان کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے، جہاں ماں کے ساتھ ساتھ دنیا میں آنے سے قبل ہی ایک معصوم جان بھی ضائع ہو گئی۔
واردات کے بعد مسلح ملزم موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ تھانہ جتوئی پولیس کا کہنا ہے کہ لاش کو ضابطے کی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کر دیا گیا ہے، جبکہ سفاک ملزم کی فوری گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
خواتین کے وراثتی حقوق کا تحفظ اور اوورسیز پاکستانیوں کے خاندانوں کے مسائل
یہ اندوہناک واقعہ پاکستان کے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں خواتین کو وراثتی جائیداد کے حصول میں درپیش جان لیوا خطرات کی عکاسی کرتا ہے۔ علاوہ ازیں، سعودی عرب، کینیڈا اور دیگر ممالک میں محنت مزدوری کرنے والے لاکھوں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے اپنے پیچھے موجود اہلِ خانہ کا تحفظ ہمیشہ ایک بڑا المیہ رہا ہے۔ قانونی و سماجی ماہرین کا ماننا ہے کہ خواتین کو وراثتی زمینوں سے محروم کرنے کے رجحان کو روکنے اور بیرونِ ملک مقیم محنت کشوں کے خاندانوں کو تحفظ دینے کے لیے سخت قانونی سزاؤں اور فوری انصاف کی فراہمی ناگزیر ہے۔
