ملتان کے علاقے بوسن روڈ پر نجی بینک کی برانچ میں شہری کے محفوظ لاکر سے کروڑوں روپے مالیت کا 80 تولے سونا پراسرار طور پر غائب ہو گیا۔
لاکر کا تالا خراب ہونے پر جب بینک انتظامیہ نے ٹیکنیشن کے ذریعے لاکر کھلوایا تو وہ مکمل طور پر خالی پایا گیا، جس پر ہنگامی پولیس طلب کر لی گئی۔
متاثرہ خاندان نے بہاؤالدین زکریا (بی زیڈ) پولیس اسٹیشن میں باضابطہ شکایت درج کروائی ہے، جبکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعے کے بعد برانچ منیجر مبینہ طور پر لاپتہ ہو گیا ہے۔
ملتان کے تجارتی علاقے بوسن روڈ پر واقع ایک نجی بینک کی برانچ میں سیکیورٹی کا سنگین بحران اس وقت پیدا ہو گیا جب ایک شہری کے محفوظ بینک لاکر سے 80 تولے سونا مبینہ طور پر چوری ہو گیا۔ یہ معاملہ اس وقت بے نقاب ہوا جب اکاؤنٹ ہولڈر اپنے لاکر کو کھولنے بینک پہنچا اور تالے میں تکنیکی خرابی کے باعث عملے نے ٹیکنیشن کی مدد سے اسے کھلوایا، جہاں لاکر اندر سے مکمل خالی پایا گیا۔ متاثرہ صارف کی فوری اطلاع پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور بی زیڈ پولیس اسٹیشن میں قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
خراب تالا کھلوانے پر خالی لاکر: سنسنی خیز تفصیلات
ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق متاثرہ صارف نے اپنی عمر بھر کی جمع پونجی اور خاندانی زیورات پر مشتمل 80 تولے سونا حفاظت کی غرض سے نجی بینک کے لاکر میں جمع کرا رکھا تھا۔ معمول کے مطابق جب صارف لاکر تک رسائی کے لیے برانچ پہنچا تو عملے کو معلوم ہوا کہ تالا ٹھیک طریقے سے کام نہیں کر رہا اور چابی سے نہیں کھل پا رہا۔ انتظامیہ کی اجازت کے بعد ایک پیشہ ور ٹیکنیشن کو بلایا گیا جس نے تالے کو کھولا۔
تاہم جیسے ہی لاکر کھلا، اندر موجود خالی جگہ دیکھ کر شہری اور موقع پر موجود افراد کے ہوش اڑ گئے۔ لاکر میں موجود کروڑوں روپے مالیت کے زیورات کا کوئی نام و نشان موجود نہیں تھا۔ اس صدمے کے بعد متاثرہ صارف نے فوری طور پر ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر رابطہ کیا، جس پر پولیس کی خصوصی تفتیشی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر بینک کے لاکر روم کے داخلی و خارجی راستوں اور سی سی ٹی وی کیمروں کا جائزہ لینا شروع کیا۔
بی زیڈ پولیس اسٹیشن میں کارروائی اور منیجر کے فرار کے الزامات
متاثرہ فریق نے تھانہ بی زیڈ میں باضابطہ قانونی درخواست جمع کرائی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بینک کے محفوظ لاکر تک کسی غیر مجاز رسائی کا ممکن ہونا اندرونی ملی بھگت کے بغیر ناممکن ہے۔ پولیس تفتیش کاروں نے بینک کے عملے اور متعلقہ سیکیورٹی گارڈز کے بیانات قلمبند کر لیے ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ لاکر کو ماضی میں کس کس تاریخ پر آپریٹ کیا گیا تھا اور اس کا لاگ بک ریکارڈ کیا کہتا ہے۔
اس کیس میں اس وقت مزید پیچیدگی پیدا ہو گئی جب کچھ ابتدائی رپورٹس میں الزام عائد کیا گیا کہ سونا غائب ہونے کی خبر پھیلتے ہی متعلقہ بینک کا برانچ منیجر موقع سے غائب ہو گیا ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق منیجر کے لاپتہ ہونے کے الزامات کی آزادانہ چھان بین کی جا رہی ہے اور اگر بینک عملے کا کوئی بھی اہلکار اس واردات میں براہِ راست ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت دفعات کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
بینکنگ سیکیورٹی پر عوامی تشویش اور اوورسیز پاکستانیوں کا نقطہ نظر
کمرشل بینکوں کے لاکرز کو شہریوں کی جانب سے قیمتی خاندانی اثاثوں اور دستاویزات کے لیے محفوظ ترین ٹھکانہ مانا جاتا ہے، لیکن بینک کی چاردیواری کے اندر سے دن دہاڑے لاکر خالی ہو جانے کے واقعات بینکنگ نظام کے حفاظتی پروٹوکولز پر بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر رہے ہیں۔ کینیڈا، برطانیہ اور خلیجی ممالک میں مقیم اوورسیز پاکستانی برادری بالخصوص اپنے آبائی شہروں کے بینک لاکرز میں زیورات اور ملکیتی کاغذات محفوظ رکھتی ہے تاکہ وہ گھریلو چوریوں کے خطرے سے بچ سکیں۔
کینیڈین پاکستانی ماہرینِ قانون کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کو کمرشل بینکوں کے لاکر سیکیورٹی نظام اور کسٹمرز کے اثاثوں کی انشورنس سے متعلق سخت قوانین نافذ کرنے چاہئیں۔ بینکنگ نظام کے اندر شفافیت اور سخت ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے بغیر شہریوں اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کا ملکی مالیاتی اداروں پر اعتماد قائم رکھنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔
