راولہ کوٹ دھرنا: کشمیر میں 21 دنوں سے انٹرنیٹ بند، حکومت کیا چھپا رہی ہے؟
آج راولہ کوٹ کے علاقے ‘دریک’ میں جاری دھرنے کو تقریباً 16 دن ہو چکے ہیں، جبکہ پورے کشمیر میں گزشتہ 21 دنوں سے انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر معطل ہیں۔ جس دور میں دنیا کو “گلوبل ویلیج” کہا جاتا ہے، اس دور میں یہاں کی حکومت نے کشمیر کو اس گلوبل ویلیج سے نکال کر باہر پھینک دیا ہے۔
معاشی نظام اور زندگی مفلوج
گزشتہ تین ہفتوں سے کشمیر کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے:
مارکیٹیں بند: تمام کاروباری مراکز اور مارکیٹیں مکمل طور پر بند پڑی ہیں جس سے مقامی معیشت تباہ ہو رہی ہے۔
رابطے منقطع: انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے عوام کا بیرونی دنیا اور آپس میں رابطہ بالکل کٹ چکا ہے۔
خوراک کی قلت: دوسری سائیڈ سے آنے والی فوڈ سپلائی (خوراک کی فراہمی) کو بھی مکمل طور پر روک دیا گیا ہے، جس سے انسانی المیہ جنم لے رہا ہے۔
انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں
اس احتجاج اور بندش کے دوران ظلم کی انتہا یہ ہے کہ درجنوں نوجوانوں کو جیلوں میں قید کر دیا گیا ہے۔ سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ کچھ شہید ہونے والے نوجوانوں کی ڈیڈ باڈیز (میتیں) بھی ان کے والدین کے حوالے نہیں کی جا رہی رہیں۔ عوام یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہیں کہ حکومت اس ظلم کا جواب آخر کیسے دے گی؟
حکومت پر بڑا سوالیہ نشان: اگر یہ لوگ پُرامن دھرنا دے رہے ہیں تو حکومت نے انٹرنیٹ کیوں بند کیا؟ سیدھی سی بات ہے کہ حکومت اپنے “کالے کرتوت” اور مظالم کو دنیا کی نظروں سے چھپانے کے لیے انٹرنیٹ کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ حکومت کو معلوم ہے کہ اگر انٹرنیٹ آن ہوا تو ایسی ویڈیوز اور حقائق سامنے آئیں گے جن کو ہینڈل کرنا ان کے لیے ناممکن ہو جائے گا۔
سوشل میڈیا مہم: انٹرنیٹ بحال کرو!
ہم اپنے تمام قارئین اور سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کرتے ہیں کہ کشمیر کے عوام کی آواز بنیں۔ اس مہم کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں اور حکومت سے مطالبہ کریں کہ کشمیر میں انٹرنیٹ فوری طور پر بحال کیا جائے۔ اگر حکومت سچی ہے تو انٹرنیٹ آن کرے، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی خود ہی سامنے آ جائے گا۔

