امریکی مڈٹرم انتخابات 2026 میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پارٹی کی شکست اور کانگریس میں اپوزیشن کی کامیابی کا منظر

امریکی مڈٹرم انتخابات 2026: ٹرمپ کی شکست اور مسلم ووٹرز

3 نومبر کو ہونے والے امریکی مڈٹرم انتخابات 2026 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پارٹی کانگریس کا کنٹرول ہار گئی، جس کے بعد اپوزیشن کو برتری حاصل ہو گئی ہے۔

مشی گن، پنسلوانیا اور جارجیا جیسی اہم سوئنگ اسٹیٹس میں مسلم اور عرب ووٹرز کے متحدہ بلاک نے نتائج بدلنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

امریکہ کی 237 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایک مسلمان امیدوار منتخب ہو کر امریکی سینیٹ (ایوانِ بالا) تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔

کانگریس کا کنٹرول چھن جانے کے باعث ٹرمپ اب ’لیم ڈک‘ (Lame Duck) صدر بن چکے ہیں، جس سے اسرائیل کے لیے غیر مشروط فنڈنگ اور ایران کے خلاف جنگی عزائم کو بریک لگ گئی ہے۔

واشنگٹن ڈی سی میں 3 نومبر کو منعقد ہونے والے امریکی مڈٹرم انتخابات 2026 نے سپر پاور کے سیاسی منظرنامے کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ ان انتخابات میں امریکی عوام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت کو شکست دے کر کانگریس (امریکی پارلیمنٹ) کا کنٹرول اپوزیشن کے سپرد کر دیا ہے۔ چنانچہ اس تاریخی سیاسی تبدیلی کے نتیجے میں صدر ٹرمپ عہدے پر برقرار رہنے کے باوجود قانون سازی اور بجٹ کی منظوری کے معاملے میں ایک بے بس یعنی ’لیم ڈک‘ (Lame Duck) صدر بن کر رہ گئے ہیں۔

امریکی مڈٹرم انتخابات 2026 اور ’لیم ڈک‘ صدارت کا آئینی مفہوم
امریکی آئینی نظام کے تحت ہر چار سال بعد صدارتی انتخاب ہوتا ہے، تاہم ہر دو سال بعد مڈٹرم انتخابات منعقد کیے جاتے ہیں۔ ان وسط مدتی انتخابات میں امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں یعنی ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز (435 نشستیں) اور سینیٹ (100 نشستیں) کے اراکین کا انتخاب عمل میں آتا ہے۔ واضح رہے کہ امریکی قوانین کے مطابق صدر بذاتِ خود کوئی نیا قانون یا وفاقی بجٹ منظور نہیں کر سکتا، بلکہ کانگریس کے دونوں ایوانوں کی منظوری کے بعد ہی کوئی بل دستخط کے لیے صدر کی میز تک پہنچتا ہے۔

مزید برآں، جب کسی برسرِ اقتدار صدر کی عوامی مقبولیت میں کمی آتی ہے تو ووٹرز مڈٹرم انتخابات میں اپوزیشن کو اکثریت دلا کر صدر کے اختیارات کو محدود کر دیتے ہیں۔ سیاسی اصطلاح میں ایسے صدر کو ’لیم ڈک‘ (Lame Duck) کہا جاتا ہے کیونکہ اپوزیشن کے زیرِ کنٹرول پارلیمنٹ صدر کے من پسند بل روک لیتی ہے۔ امریکی مڈٹرم انتخابات 2026 سے عین قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ایک متنازعہ تصویر بھی شیئر کی تھی۔ اس تصویر میں ناروے، انگلینڈ، سویڈن اور فرانس سمیت صومالیہ، شام، یمن اور ایران جیسے ممالک کے ناموں والے بڑے دروازے دکھا کر غیر ملکیوں اور مسلمانوں کے خلاف خوف پھیلانے کی کوشش کی گئی، تاہم امریکی عوام نے اس منفی بیانیے کو ووٹ کی طاقت سے مسترد کر دیا۔

تاریخی پس منظر اور عوامی عدم اطمینان کی وجوہات
امریکی تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے ووٹرز ماضی میں بھی صدور کا محاسبہ کرتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر 1994 میں بل کلنٹن کے دور میں ریپبلکنز نے کانگریس کا کنٹرول چھینا جسے ’ریپبلکن ریوولوشن‘ کہا گیا۔ اسی طرح 2006 میں عراق جنگ سے تنگ آ کر امریکی عوام نے جارج ڈبلیو بش کی پارٹی کو شکست دی، جبکہ 2010 میں ٹی پارٹی موومنٹ کے نتیجے میں باراک اوباما کو کانگریس میں بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف عوامی ردِعمل کی وجوہات کہیں زیادہ گہری ہیں۔ انتخابات سے قبل گیلپ (Gallup) اور پیو ریسرچ (Pew Research) کے سروے میں یہ بات سامنے آ چکی تھی کہ 60 فیصد سے زائد امریکی شہری روزمرہ کے سیاسی بحران اور عدم استحکام سے تنگ آ چکے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی تاریخ کے واحد صدر ہیں جن پر دو مرتبہ مواخذہ (Impeachment) لگایا گیا اور انہیں خفیہ دستاویزات چھپانے، جارجیا کے انتخابی نتائج بدلنے کی کوشش اور 6 جنوری کے کیپیٹل ہل حملے سمیت سنگین مقدمات کا سامنا رہا۔ اس کے علاوہ جنرل جم میٹس، ریکس ٹلرسن اور جان بولٹن سمیت ان کے اپنے ہی مقرر کردہ درجنوں وزراء اور جرنیلوں کی برطرفیوں نے بھی ووٹرز کو مایوس کیا۔

مسلم کمیونٹی کی سیاسی بیداری اور سوئنگ اسٹیٹس میں فیصلہ کن کردار
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت کے آغاز پر ہی متنازعہ ایگزیکٹو آرڈر 13769 (مسلم بین) پر دستخط کر کے ایران، عراق، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ مزید برآں، انہوں نے دہائیوں پرانی امریکی پالیسی بدل کر یروشلم (بیت المقدس) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا اور ابراہیمی معاہدے کے ذریعے فلسطینی نصب العین کو پسِ پشت ڈالنے کی کوشش کی۔ تاہم اسی دباؤ نے امریکی مسلمانوں میں ایک بے مثال سیاسی بیداری پیدا کی۔

نتیجتاً، وہ مسلم کمیونٹی جو ماضی میں صرف ووٹ دینے تک محدود تھی، اب براہِ راست انتخابی سیاست کا حصہ بن چکی ہے۔ کانگریس میں الہان عمر اور رشیدہ طلیب کے بعد نیویارک میں زہران ممدانی جیسے نوجوان رہنما ابھرے، اور اب امریکہ کی 237 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایک مسلمان امیدوار امریکی سینیٹ کا رکن منتخب ہو کر ایوانِ بالا میں پہنچ گیا ہے۔ مشی گن، پنسلوانیا اور جارجیا جیسی فیصلہ کن ’سوئنگ اسٹیٹس‘ میں مسلم اور عرب ووٹرز نے ایک مضبوط ووٹنگ بلاک تشکیل دیا۔ انہوں نے ڈیموکریٹس کے سامنے فلسطین میں جنگ بندی اور اسرائیل کی اندھی حمایت روکنے کی مشروط حمایت رکھی، جس نے انتخابی نتائج کا پانسہ پلٹ دیا۔

مشرقِ وسطیٰ، عالمی معیشت اور اوورسیز کمیونٹی پر اثرات
اپوزیشن کے ہاتھ میں کانگریس کا کنٹرول آنے کا براہِ راست اثر مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور عالمی معیشت پر پڑے گا۔ امریکی آئین کے تحت کانگریس کے پاس ’پاور آف پرس‘ (Power of the Purse) یعنی مالیاتی فنڈز جاری کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ چنانچہ اب صدر ٹرمپ کے لیے اسرائیل کو جنگ کے لیے اربوں ڈالرز کا غیر مشروط اسلحہ دینا یا ایران کے خلاف کسی نئی فوجی مہم جوئی کے لیے بجٹ منظور کروانا ممکن نہیں رہے گا۔ واضح رہے کہ ٹرمپ نے ماضی میں پیرس کلائمیٹ ایگریمنٹ، عالمی ادارہ صحت (WHO) اور ایران نیوکلیئر ڈیل سے نکل کر اور جنوری 2020 میں ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کو نشانہ بنا کر دنیا کو بڑی جنگ کے دہانے پر لاکھڑا کیا تھا۔

دوسری جانب، امریکی عوام اپنے ٹیکسوں کا پیسہ بیرونی جنگوں کے بجائے مقامی ہسپتالوں، انفراسٹرکچر اور روزگار پر خرچ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا خطرہ ٹلنے اور ایران کے ساتھ سفارتی تناؤ کم ہونے سے عالمی بحری گزرگاہ ’آبنائے ہرمز‘ محفوظ رہے گی، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی اور مہنگائی کے ستائے عوام کو براہِ راست ریلیف ملے گا۔

امریکی آئین کی 22 ویں ترمیم کے تحت کوئی بھی شخص دو بار سے زائد صدر منتخب نہیں ہو سکتا، اس لیے ٹرمپ 2028 کا صدارتی انتخاب نہیں لڑ سکتے۔ ان کے آخری دو سال کانگریس کی تحقیقاتی کمیٹیوں اور عدالتی حکمِ امتناع کا سامنا کرتے گزریں گے، جبکہ 2028 میں صدارتی استثنیٰ ختم ہوتے ہی ان کے خلاف التواء کا شکار فوجداری مقدمات دوبارہ کھل جائیں گے۔ کینیڈا، امریکہ اور مغربی ممالک میں مقیم پاکستانی و مسلم تارکینِ وطن کے لیے یہ نتائج اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ جمہوری نظام میں احتجاج کے ساتھ ساتھ منظم ووٹنگ بلاک اور پارلیمانی نمائندگی ہی پالیسی سازی پر اثر انداز ہونے کا سب سے مؤثر اور آئینی راستہ ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں