حکومتِ پاکستان نے 3 نومبر 2026 سے پیٹرول کی قیمت میں 3.40 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 7.76 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کر دیا ہے۔
نئی قیمتوں کے تحت پیٹرول 374.51 روپے اور ڈیزل 395.20 روپے فی لیٹر کی سطح پر آ گیا ہے۔
عالمی منڈی کے دباؤ کے باوجود ملکی ریفائنریز ماہانہ 15 ارب روپے کا مالی بوجھ اٹھا کر ممکنہ 15 روپے فی لیٹر اضافے کو روکنے میں شراکت دار بنی ہیں۔
وفاقی حکومت نے عوام کو مہنگائی کے شدید دباؤ سے جزوی ریلیف فراہم کرتے ہوئے ملک بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے جاری کردہ فارمولے کے مطابق یہ نئی نظرثانی شدہ ایکس ڈپو قیمتیں 3 نومبر 2026 سے نافذ العمل ہوں گی۔ اس فیصلے کے بعد موٹرسائیکل و گاڑی مالکان کے ساتھ ساتھ گڈز ٹرانسپورٹرز اور زرعی شعبے سے وابستہ کسانوں کو فوری مالی ریلیف میسر آئے گا۔
نظرثانی شدہ نرخ اور ٹرانسپورٹ و زراعت پر اثرات
اوگرا کے نئے تعین کے تحت پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 40 پیسے کی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد یہ 377.91 روپے سے کم ہو کر 374.51 روپے پر آ گیا ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کے نرخوں میں 7 روپے 76 پیسے فی لیٹر کی بڑی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 402.96 روپے سے گر کر 395.20 روپے فی لیٹر مقرر ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ ڈیزل کے نرخوں میں نمایاں کمی سے مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں کمی کی راہ ہموار ہوگی، جس کا براہِ راست فائدہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کے استحکام میں دکھائی دے گا۔ اس کے علاوہ زرعی ٹیوب ویلز اور ٹریکٹرز چلانے والے کاشتکاروں کی پیداواری لاگت میں بھی قدرے کمی واقع ہوگی۔
ریفائنریز کا معاہدہ اور 15 ارب روپے کا ماہانہ مالی بوجھ
اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث اصل میں پیٹرول پر تقریباً 15 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز تھی۔ تاہم وزیراعظم شہباز شریف نے ریفائنری مالکان اور نمائندوں سے تفصیلی مشاورت کر کے ایک خصوصی ریلیف میکانزم تشکیل دیا۔
اس انتظامات کے تحت مقامی ریفائنریز نے حکومت کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ماہانہ تقریباً 15 ارب روپے کا مالیاتی کشن فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ وفاقی وزیر نے وضاحت کی کہ چونکہ ریفائنریز نے گزشتہ سہ ماہی میں حکومتی سہولت کاری کے باعث پیداوار بڑھا کر بہتر منافع حاصل کیا تھا، چنانچہ انہوں نے موجودہ بحران میں صارفین کو تحفظ فراہم کرنے کی حکومتی درخواست کو مثبت انداز میں قبول کر لیا۔
مشرق وسطیٰ کا بحران اور تارکین وطن کا تجزیاتی نقطہ نظر
مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری عسکری کشیدگی نے بین الاقوامی سطح پر توانائی کی سپلائی لائن اور درآمدی بلوں کو شدید متاثر کر رکھا ہے۔ کینیڈا اور دیگر مغربی ممالک میں مقیم اوورسیز پاکستانی برادری طویل عرصے سے پاکستان کے توانائی بحران اور بڑھتے ہوئے پٹرولیم اخراجات کو ملکی افراطِ زر کی بنیادی وجہ قرار دیتی رہی ہے۔
اوورسیز تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ عارضی سبسڈیز اور ریفائنری ایڈجسٹمنٹ سے عوام کو مختصر المدتی ریلیف مل جاتا ہے، تاہم پائیدار معاشی استحکام کے لیے پاکستان کو تیل پر انحصار کم کر کے متبادل توانائی اور برآمدی نمو پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر پر بیرونی منڈیوں کا دباؤ ختم ہو سکے۔
