نوابشاہ میں سندھ کی ماں کی جانب سے 20 لاکھ روپے قرض کے عوض چار بچوں کو فروخت کرنے کے اعلان کا علامتی منظر

نوابشاہ: ماں کا 20 لاکھ قرض کے لیے چار بچوں کو فروخت کرنے کا اعلان

ضلع شہید بینظیر آباد کے علاقے قاضی احمد میں ایک ماں نے 20 لاکھ روپے کا مبینہ ساہوکار کا قرض چکانے کے لیے اپنے چار بچوں کو فروخت کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

متاثرہ خاتون شمشاد بی بی نے الزام عائد کیا ہے کہ ساہوکار کے دباؤ اور ہراسانی کے علاوہ اس کے شوہر اللہ رکھا کو پولیس کی ملی بھگت سے زبردستی غائب کر دیا گیا ہے۔

خاتون نے وزیر داخلہ سندھ، آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی شہید بینظیر آباد سے فوری نوٹس لینے، شوہر کی بازیابی اور انصاف کی اپیل کی ہے۔

نوابشاہ سے ایک انتہائی دل دہلا دینے والا اور ہلا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے جہاں سندھ کی ماں نے اپنے چار بچوں کو 20 لاکھ روپے سے زائد کا قرضہ بیچنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ضلع شہید بینظیر آباد کی تحصیل قاضی احمد سے تعلق رکھنے والی شمشاد بی بی نامی خاتون نے مقامی پریس کلب کا رخ کیا اور اپنی اس شدید آزمائش کو دنیا کے سامنے رکھتے ہوئے صوبائی حکام سے فوری مداخلت کی التجا کی۔ مالی مجبوریوں اور ظلم کی اس داستان نے خاندان کی سلامتی اور بچوں کے مستقبل پر بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔

ساہوکار کا 20 لاکھ کا دباؤ اور شوہر کی مبینہ گمشدگی
متاثرہ خاتون شمشاد بی بی نے میڈیا کو بتایا کہ انور شاہ لکھیاری نامی ایک شخص، جو مبینہ طور پر استحصالی قرضوں کے کاروبار سے وابستہ ہے، اس سے بیس لاکھ روپے کی واپسی کا شدید مطالبہ کر رہا ہے۔ بڑھتے ہوئے مالی دباؤ اور ساہوکار کی جانب سے مسلسل ہراساں کیے جانے کے باعث وہ اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ اس نے اپنے چاروں معصوم بچوں کو فروخت کرنے کا انتہائی علامتی و دردناک اعلان کر ڈالا تاکہ اس قرض سے جان چھٹ سکے۔

خاتون نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اس کٹھن وقت میں اس کا سہارا بننے والا کوئی نہیں ہے کیونکہ اس کے شوہر اللہ رکھا کھوکھر کو مبینہ طور پر مقامی پولیس کی مداخلت اور ملی بھگت کے ذریعے زبردستی غائب کر دیا گیا ہے۔ شوہر کی غیر موجودگی اور پولیس کے اس مبینہ کردار نے اس غریب خاندان کے لیے مشکلات کو دوچند کر دیا ہے۔

اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کی اپیل اور قانونی سوالات
شمشاد بی بی نے براہِ راست وزیر داخلہ سندھ، انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ اور ڈی آئی جی شہید بینظیر آباد سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری طور پر نوٹس لیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کے شوہر کو جلد از جلد بازیاب کرایا جائے، 20 لاکھ روپے کے اس مبینہ استحصالی قرضے کی شفاف انکوائری کی جائے اور اس ظلم میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ آیا ملزم ساہوکار کے خلاف کوئی باقاعدہ فوجداری مقدمہ درج کیا گیا ہے یا پولیس نے خاتون کے شوہر کی بازیابی کے لیے کوئی عملی قدم اٹھایا ہے۔ تاہم اس واقعے نے صوبے میں ساہوکاری نظام کے دباؤ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر شدید نوعیت کے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ کینیڈا اور دیگر ممالک میں مقیم اوورسیز پاکستانی کمیونٹی بھی وطنِ عزیز میں انسانی حقوق کی ایسی ابتر صورتحال اور غریب خاندانوں کی بے بسی پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں