معروف ماہر ماحولیات اور محقق سلمان بلوچ نے بلوچستان کے خطے میں پائے جانے والے پرندوں پر مشتمل پہلی بلوچی کتاب ‘مرغانی انسائیکلوپیڈیا’ تصنیف کر لی۔
انسائیکلوپیڈیا میں 200 سے زائد پرندوں کی انواع، تقریباً 400 رنگین تصویری پلیٹوں، مقامی بلوچی ناموں، خوراک، افزائشِ نسل اور قدرتی مساکن کی تفصیلی معلومات شامل ہیں۔
مصنف نے 11 سالہ طویل فیلڈ ورک کے دوران جیوانی کے ساحلوں سے نگر پارکر اور بروغل سے وادیِ نیلم تک سفر کر کے یہ تاریخی سائنسی دستاویز مرتب کی۔
پاکستان کے ممتاز شہری سائنسدان اور ماہرِ پرندیات سلمان بلوچ نے قدرتی تاریخ اور جنگلی حیات کی دستاویزی تاریخ میں نیا سنگِ میل عبور کرتے ہوئے بلوچی زبان میں خطے کے پرندوں پر مبنی پہلی جامع کتاب ‘مرغانی انسائیکلوپیڈیا’ شائع کر دی ہے۔ اس اشاعت کا بنیادی مقصد بلوچستان کے مسحور کن اور نایاب پرندوں سے متعلق سائنسی معلومات کو مقامی کمیونٹیز کی مادری زبان میں عام فہم بنانا ہے۔ یہ تاریخی دستاویز مکران کے ساحلی چٹانوں سے لے کر زیارت کے تاریخی صنوبر (جونیپر) کے جنگلات تک پھیلے ہوئے وسیع ماحولیاتی تنوع کو ایک منفرد انداز میں قارئین کے سامنے لاتی ہے۔
200 سے زائد پرندوں کی انواع اور 11 سالہ زمینی تحقیق کی تفصیلات
‘مرغانی انسائیکلوپیڈیا’ میں صوبے کے قدرتی مساکن میں پائی جانے والی 200 سے زائد پرندوں کی اقسام کو تقریباً 400 رنگین تصویری پلیٹوں کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں پرندوں کی شناخت، ان کے مسکن، افزائشِ نسل، غذائی عادات اور خطرے سے دوچار پرجاتیوں کے تحفظ کے بین الاقوامی درجات کی مکمل سائنسی درجہ بندی موجود ہے۔ اس کے علاوہ خطے میں پہلے سے ریکارڈ شدہ پرندوں کے ساتھ ساتھ ان اقسام کا خاکہ بھی شامل کیا گیا ہے جنہیں مستقبل کے محققین اور برڈ واچرز مزید دستاویز کر سکتے ہیں۔
اس کتاب کے مصنف سلمان بلوچ، جن کا تعلق ملیر کراچی سے ہے، ایک طویل عرصے سے بطور فیلڈ بائیولوجسٹ اور ‘انڈس فشنگ کیٹ پروجیکٹ’ کے بانی کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ 11 سالوں کے دوران جیوانی کے ساحلوں سے نگر پارکر اور بروغل کے دشوار گزار پہاڑوں سے وادیِ نیلم تک وسیع پیمانے پر سفر کیا ہے۔ اس طویل زمینی مشاہدے، ڈیٹا اکٹھا کرنے اور بین الاقوامی تحقیقی لٹریچر (بشمول ٹی جے رابرٹس کی شہرہ آفاق کتاب ‘دی برڈز آف پاکستان’) کی روشنی میں یہ جامع کتاب مکمل کی گئی ہے۔
مادری زبان میں سائنسی علم کی منتقلی اور علاقائی تحفظ کی اہمیت
اس انسائیکلوپیڈیا کا سب سے نمایاں پہلو اس کا زبان کا انتخاب ہے۔ محقق سلمان بلوچ انگریزی یا اردو میں لکھ کر ایک بڑی اشاعتی مارکیٹ تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکتے تھے، لیکن انہوں نے بلوچی زبان کا انتخاب کیا تاکہ مقامی چرواہے، کاشتکار اور عام لوگ اپنی زبان میں اردگرد کے پرندوں کو پہچان سکیں۔ کتاب میں ہر پرندے کے ساتھ اس کا علاقائی بلوچی نام درج کیا گیا ہے، جس نے قدیم مقامی لوک دانش (Indigenous Knowledge) اور جدید سائنسی اصطلاحات کے مابین تعلق قائم کر دیا ہے۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق کسی بھی خطے میں جنگلی حیات کا پائیدار تحفظ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مقامی آبادی کو اپنے اردگرد کے ماحولیاتی نظام کی قدر و قیمت کا احساس نہ ہو۔ انگریزی یا غیر ملکی زبانوں میں چھپی سائنسی کتب مقامی لوگوں کی پہنچ سے باہر رہتی ہیں، جبکہ ‘مرغانی انسائیکلوپیڈیا’ نے مادری زبان کا استعمال کر کے بلوچستان کے عام شہریوں اور نوجوانوں کو اپنے قدرتی ماحولیاتی اثاثوں کا محافظ بننے کی ترغیب دی ہے۔
حیاتیاتی تنوع کا تحفظ اور اوورسیز کینیڈین پاکستانیوں کا ماحولیاتی کردار
عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں اور نایاب پرندوں کی بقا کو درپیش چیلنجز کے اس دور میں مادری زبانوں میں سائنسی لٹریچر کا فروغ ایک انقلابی قدم ہے۔ کینیڈا، جہاں قدرتی حیات، نیشنل پارکس اور پرندوں کے مساکن کا تحفظ قومی پالیسی کا بنیادی ستون مانا جاتا ہے، وہاں مقیم پاکستانی اور بالخصوص کینیڈین بلوچ برادری پاکستان میں ایسے خالص اور غیر منافع بخش ماحولیاتی منصوبوں کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
کینیڈین پاکستانی محققین اور ماہرینِ ماحولیات کے مطابق سلمان بلوچ کی یہ منفرد کاوش پاکستان کی دیگر علاقائی زبانوں بشمول سندھی، پشتو، پنجابی اور سرائیکی میں بھی سائنسی لٹریچر کے دروازے کھولے گی۔ بیرونِ ملک مقیم کمیونٹی پاکستان کے حیاتیاتی تنوع کو محفوظ رکھنے کے لیے ایسے سائنسی منصوبوں کو ڈیجیٹل اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
