پاکستان میں بجلی کا شارٹ فال اور لاہور سمیت مختلف شہروں میں لوڈشیڈنگ کا بحران

بجلی کا شارٹ فال 4 ہزار میگاواٹ سے تجاوز، لاہور سمیت ملک بھر میں لوڈشیڈنگ شروع

پاکستان میں بجلی کا مجموعی شارٹ فال 4 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر گیا ہے جس کے باعث شہری و دیہی علاقوں میں روزانہ 3 سے 4 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے ریجن میں بجلی کی طلب 4000 میگاواٹ کے مقابلے میں سپلائی 3000 میگاواٹ رہ گئی، جس کے نتیجے میں ایک ہزار میگاواٹ کا خسارہ پیدا ہو چکا ہے۔

متعدد پاور پلانٹس کے اچانک سسٹم سے باہر ہونے اور ہائیڈل (پن بجلی) کی پیداوار میں کمی نے نیشنل گرڈ پر سپلائی اور ڈیمانڈ کے توازن کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

ملک بھر میں توانائی کا بحران ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے جہاں بجلی کا مجموعی خسارہ 4,000 میگاواٹ کی خطرناک حد کو عبور کر چکا ہے۔ طلب اور رسد میں پیدا ہونے والے اس وسیع فرق کے باعث پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں نے شہری و دیہی علاقوں میں بجلی کی باقاعدہ بندش شروع کر دی ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کو روزانہ تین سے چار گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پاور پلانٹس کا تعطل اور لیسکو ریجن میں ایک ہزار میگاواٹ کا خسارہ
لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے دائرہ اختیار میں بجلی کا بحران سنگین ترین صورتحال اختیار کر گیا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق لیسکو ریجن میں بجلی کی کل طلب 4 ہزار میگاواٹ کے قریب پہنچ چکی ہے جبکہ نیشنل گرڈ سے دستیاب سپلائی گر کر 3 ہزار میگاواٹ پر آ گئی ہے۔ اس 1,000 میگاواٹ کے بھاری شارٹ فال نے لاہور، قصور، شیخوپورہ اور ملحقہ اضلاع میں بجلی کی طویل بندش کو جنم دیا ہے۔

شہری اور صنعتی علاقوں میں بجلی کے اچانک تعطل سے گھریلو صارفین کے علاوہ چھوٹے کاروبار اور پیداواری یونٹس شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق ملک کے متعدد اہم پاور پلانٹس تکنیکی وجوہات اور آپریشنل تعطل کی بنا پر سسٹم سے آف لائن ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے ترسیلی نظام پر اچانک اضافی بوجھ آن پڑا ہے۔

ہائیڈل پیداوار میں کمی اور تقسیم کار کمپنیوں کی مجبوری
نیشنل گرڈ کو درپیش دباؤ کی ایک اور بنیادی وجہ ڈیموں اور آبی ذخائر سے پن بجلی (ہائیڈل پاور) کی پیداوار میں نمایاں کمی ہے۔ سستی پن بجلی کی محدود فراہمی اور متبادل تھرمل یونٹس کے غیر فعال ہونے سے بجلی کا مجموعی شارٹ فال لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہا ہے، جس نے نیشنل پاور کنٹرول سینٹر (NPCC) کو مجبورا تمام تقسیم کار کمپنیوں کا کوٹہ گھٹانے پر مجبور کر دیا ہے۔

ڈسکوز کے ترجمانوں کا کہنا ہے کہ گرڈ سسٹم کے تحفظ اور ٹرپنگ سے بچاؤ کے لیے عارضی لوڈ مینجمنٹ ناگزیر ہو چکی ہے۔ تاہم دیہی فیڈرز پر صورتحال مزید ابتر ہو گئی ہے جہاں بجلی کی بندش کا دورانیہ 4 سے 6 گھنٹے تک پہنچ چکا ہے، جس سے زرعی ٹیوب ویلوں اور لائیو اسٹاک فارمز پر انحصار کرنے والے کاشتکار طبقے کو بھی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

معاشی پیداواری صلاحیت اور اوورسیز کینیڈین پاکستانی کمیونٹی کی تشویش
پاکستان میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور توانائی کا عدم استحکام برآمدی صنعتوں اور معاشی ترقی کی رفتار کو بری طرح سست کر دیتا ہے۔ کینیڈا اور دنیا بھر میں مقیم اوورسیز پاکستانی برادری اپنے وطن میں بجلی کے بحران اور مسلسل بڑھتے ہوئے ٹیرف پر گہری تشویش کا اظہار کرتی رہی ہے، کیونکہ توانائی کے بحران سے ملکی سرمایہ کاری اور تجارتی ماحول کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔

کینیڈین پاکستانی معاشی مبصرین اور کاروباری تنظیموں کے مطابق روایتی اور مہنگے بجلی پیدا کرنے والے ذرائع پر انحصار کم کر کے جدید سولرائزیشن، ونڈ انرجی اور گردشی قرضوں کے مستقل حل کی طرف جانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ تارکینِ وطن کے مطابق جب تک ٹرانسمیشن لائنز کی اپ گریڈیشن اور تقسیم کے نظام میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی نہیں بنایا جائے گا، تب تک معیشت کو اس قسم کے عارضی بحرانوں سے مستقل نجات دلانا ممکن نہیں ہوگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں