مصنوعی ذہانت (AI) کی عالمی دوڑ ایک فیصلہ کن اور سنسنی خیز موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ گرافکس اور چپ ساز کمپنی اینویڈیا (Nvidia) کے سربراہ جینسن ہوانگ نے اعلان کیا ہے کہ اوپن اے آئی (OpenAI) کے جدید ترین ماڈل “جی پی ٹی آسٹرا” (GPT Astra) کی نقاب کشائی کے ساتھ ہی دنیا باضابطہ طور پر مصنوعی عمومی ذہانت یعنی AGI (Artificial General Intelligence) کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ تاہم جہاں اس کامیابی کو تاریخی قرار دیا جا رہا ہے، وہیں خود مختار سپر انٹیلی جنس کے خطرات پر محققین نے سخت انتباہ بھی جاری کر دیا ہے۔
کیا اے جی آئی (AGI) کا دور شروع ہو چکا ہے؟
جینسن ہوانگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر اوپن اے آئی کو مبارکباد دیتے ہوئے واضح الفاظ میں لکھا کہ “AGI آ چکا ہے”۔ اس بیان نے عالمی ٹیکنالوجی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
اوپن اے آئی کے مطابق جی پی ٹی آسٹرا روایتی ماڈلز کے مقابلے میں کارکردگی کی ایک زبردست چھلانگ ہے۔ اس ماڈل کی نمایاں صلاحیتوں میں درج ذیل شعبے شامل ہیں:
کمپیوٹر کے خود مختار استعمال اور ویب براؤزنگ کی صلاحیت
جدید سافٹ ویئر انجینئرنگ اور کوڈنگ
سائبر سیکیورٹی اور پیچیدہ سائنسی تحقیق
پیشہ ورانہ دستاویزات کی تیاری اور بیک وقت ملٹی ٹاسکنگ
اوپن اے آئی کے صدر گریگ بروک مین نے اسے “جنریشنل لیپ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ اس موڑ کو AGI کی تخلیق کے حقیقی آغاز کے طور پر یاد رکھے گی۔ آزادانہ ٹیسٹوں اور آرک پرائز فاؤنڈیشن (ARC Prize) کے جائزوں میں بھی اس ماڈل نے انسانوں کے مساوی منطقی استدلال کے نتائج ظاہر کیے ہیں۔
“ٹیک ماہرین کے مطابق جی پی ٹی آسٹرا کی یہ تیز رفتار ترقی مستقبل کے لیے چیلنج بھی بن سکتی ہے۔”
ماہرین کی وارننگ اور جیکب کوکسن کا استعفیٰ
ایک طرف جہاں اس نئی پیش رفت پر جشن کا سماں ہے، وہیں دوسری طرف انڈسٹری کے اندرونی حلقوں سے شدید تشویش بھی سامنے آئی ہے۔ اوپن اے آئی اور اینتھروپک (Anthropic) کے سابق 27 سالہ سینئر محقق جیکب کوکسن نے مصنوعی ذہانت کی انڈسٹری سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔
کوکسن نے متنبہ کیا ہے کہ کمپنیاں زیادہ سے زیادہ طاقتور سسٹمز بنانے کی اندھی دوڑ میں انسانیت کے مستقبل سے جوا کھیل رہی ہیں۔ ان کے مطابق سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ:
یہ سسٹمز خود کو خود کار طریقے سے بہتر بنانے (Self-improving AI) کی صلاحیت حاصل کر رہے ہیں۔
اگر خود میں بہتری لانے کا یہ عمل تیز ہو گیا تو ایک ایسا قابو سے باہر سائیکل شروع ہو جائے گا جس کی نگرانی ممکن نہیں رہے گی۔
انتہائی طاقتور سسٹمز مستقبل میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے، خود مختار فیصلے کرنے اور حقیقی دنیا کے وسائل پر اثر انداز ہونے کی اہلیت حاصل کر سکتے ہیں۔
اینتھروپک کے الائنمنٹ محقق ایون ہبنگر نے بھی عوامی سطح پر تسلیم کیا ہے کہ مستقبل کے جدید ترین AI ماڈلز کے قابو سے باہر ہونے کے تباہ کن نتائج نکل سکتے ہیں۔
ٹیک انڈسٹری میں بڑھتی ہوئی تقسیم
ناقدین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چند بینچ مارکس پر کامیابی حاصل کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ماڈل حقیقی انسانی شعور پا چکا ہے۔ اس وقت ٹیک انڈسٹری دو واضح حصوں میں تقسیم نظر آتی ہے؛ ایک وہ جو اسے انسانی تاریخ کی سب سے بڑی سائنسی فتح قرار دے رہے ہیں، اور دوسرے وہ جن کا ماننا ہے کہ اگر عالمی حکومتوں اور کمپنیوں نے فوری طور پر سخت ضوابط نہ بنائے تو خود کو اپ گریڈ کرنے والی یہ ٹیکنالوجی انسانی کنٹرول سے مکمل باہر نکل سکتی ہے۔
