امریکہ اور ایران کشیدگی کے باوجود تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی، مارکیٹ غیر یقینی کا شکار

اسلام آباد: عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جو امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت کی خبروں کے بعد سامنے آئی۔ اس صورتحال نے توانائی کی عالمی منڈی میں غیر یقینی کیفیت پیدا کر دی ہے۔

رپورٹس کے مطابق، پیر کے روز تیز اضافے کے بعد خام تیل کی قیمتیں نیچے آ گئیں۔ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل تقریباً 2.32 ڈالر کمی کے ساتھ 96.76 ڈالر فی بیرل تک آ گیا، جبکہ برینٹ کروڈ کی قیمت 1.45 ڈالر کم ہو کر 97.91 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔

اس سے قبل، تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ دیکھا گیا تھا، جس کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے قریب ممکنہ سپلائی خدشات تھے۔ تاہم، حالیہ سفارتی اشاروں نے مارکیٹ کو وقتی طور پر ریلیف دیا ہے۔

دوسری جانب، توانائی کی دیگر اشیاء میں بھی ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا۔ مربن کروڈ کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا جبکہ قدرتی گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔

خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب اطلاعات سامنے آئیں کہ امریکی فوج نے اپنی سرگرمیاں خلیج عمان اور بحیرہ عرب تک وسیع کر دی ہیں، جس کے باعث کچھ بحری جہازوں نے اپنے راستے تبدیل کر لیے۔ اس صورتحال نے عالمی سپلائی چین کے حوالے سے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

ادھر ایران کی جانب سے بھی سخت ردعمل دیکھنے میں آیا، جہاں خلیجی بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی گئیں۔ یہ پیش رفت ایک بڑے علاقائی تنازعے کے خدشے کو جنم دے رہی ہے جو عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کر سکتا ہے۔

اس تمام صورتحال کے باوجود، سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے، جبکہ پاکستان بھی کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس حوالے سے جاری کوششوں کی تصدیق کی ہے۔

ماہرین کے مطابق، تیل کی عالمی منڈی اس وقت دو بڑی طاقتوں کے درمیان توازن میں پھنسی ہوئی ہے: ایک طرف بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی، اور دوسری جانب سفارت کاری کی امید، جو کسی بڑے بحران کو روک سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں