سرگودھا میں ہولناک جرم: معصوم بچے کو زندہ دفن کرنے کی کوشش، 3 گرفتار

سرگودھا میں ہولناک جرم: زیادتی کی شکایت کرنے پر 14 سالہ معصوم بچے کو زندہ دفن کرنے کی کوشش، مرکزی ملزم سمیت 3 گرفتار

سرگودھا: پنجاب کے ضلع سرگودھا کے علاقے جھال چکیاں میں ایک انتہائی لرزہ خیز اور ہولناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک 14 سالہ معصوم لڑکے کو مبینہ زیادتی کی شکایت کرنے کا بدلہ لینے کے لیے ملزمان نے اغوا کر کے مٹی میں زندہ دفن کرنے کی وحشیانہ کوشش کی ہے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم سمیت 3 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، اغوا اور وحشیانہ تشدد کا نشانہ بننے والا 14 سالہ بچہ غلام رسول ولد مظہر گزشتہ روز سے اچانک لاپتا تھا۔ لواحقین نے سنگین الزام عائد کرتے ہوئے بتایا کہ چند روز قبل بچے نے اپنے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتی کی شکایت کی تھی، جس کا بدلہ لینے اور اپنے گھناؤنے جرم کو چھپانے کے لیے ملزمان نے معصوم بچے کو اغوا کیا اور اسے مٹی تلے زندہ دفن کر کے فرار ہو گئے۔ خوش قسمتی سے، اطلاع ملتے ہی سرگودھا پولیس اور ریسکیو اہلکار فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور زمین تلے دبے بچے کو بحفاظت نکال کر طبی امداد کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (DHQ) ہسپتال منتقل کیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق، بدترین تشدد اور مٹی تلے دبنے کے باوجود معصوم بچے کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

جھال چکیاں پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی دو ملزمان کو پہلے ہی حراست میں لیا جا چکا تھا، جبکہ اب انتھک تگ و دو کے بعد کیس کا مرکزی ملزم بھی قانون کی گرفت میں آ چکا ہے۔ لواحقین کی باقاعدہ درخواست پر مقدمہ درج کر کے واقعے کی تفتیش انتہائی پیشہ ورانہ اور سائنسی خطوط پر جاری ہے۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے تمام فرانزک شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام پہلوؤں کی باریک بینی سے انویسٹی گیشن کے بعد قصورواروں کو عدالت سے سخت ترین قانونی سزا دلائی جائے گی۔

آپ کی کیا رائے ہے؟ بچوں کے خلاف ایسے وحشیانہ اور لرزہ خیز جرائم کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے ملزمان کو قانون کے مطابق کیا عبرتناک سزا ملنی چاہئے؟ نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنی قیمتی رائے کا اظہار لازمی کریں۔

اپنا تبصرہ لکھیں