بجٹ 2026-27 قومی اسمبلی سے منظور: قائمہ کمیٹی کی وارننگ کے باوجود فنانس بل پاس
اسلام آباد: پاکستان کی قومی اسمبلی نے اپوزیشن کے شدید احتجاج، ہنگامے اور نعرے بازی کے درمیان مالی سال 2026-27 کے لیے 18.77 ٹریلین روپے کا وفاقی بجٹ کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے۔ فنانس بل 2026 کی منظوری کے دوران اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پیش کی جانے والی تمام ترامیم کو کثرت رائے سے مسترد کر دیا گیا، جبکہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی تمام حکومتی ترامیم منظور کر لی گئیں۔
مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت اتحادی حکومت نے یہ اہم بجٹ ایسے وقت میں پاس کروایا ہے جب ملک کو مالی سال میں تقریباً 1 ٹریلین روپے کے ریونیو خسارے کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود، حکومت نے نئے مالی سال کے لیے 15.264 ٹریلین روپے کا بھاری ریونیو اکٹھا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17.6 فیصد زیادہ ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ نئے بجٹ پیکیج میں برآمد کنندگان، رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی صنعت کے لیے ٹیکس مراعات کے ساتھ ساتھ تنخواہ دار طبقے کے لیے بھی کچھ ریلیف اقدامات شامل کیے گئے ہیں، تاکہ معاشی سرگرمیاں تیز ہوں اور جی ڈی پی کی شرح نمو 4 فیصد حاصل کی جا سکے۔
دوسری جانب، اس اہم قانون سازی کو فائنل کرنے کے طریقے پر شدید تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ بجٹ کی منظوری سے چند روز قبل ہی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے مناسب تکنیکی جائزے اور پارلیمانی جانچ پڑتال کے بغیر آخری لمحات میں کی جانے والی ترامیم پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔ کمیٹی نے وارننگ دی تھی کہ عجلت میں کی جانے والی تبدیلیاں قوانین کے معیار کو کمزور کرتی ہیں اور عمل درآمد کے دوران شدید قانونی پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہیں۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سید نوید قمر نے متوازن اور سیکٹر نیوٹرل پالیسی ماحول برقرار رکھنے پر زور دیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کس طرح معاشی ترقی اور بھاری ٹیکس اہداف کے درمیان توازن برقرار رکھتی ہے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا حکومت اس نئے بجٹ کے بھاری ٹیکس اہداف کو پورا کرنے اور عوام کو ریلیف دینے میں کامیاب ہو سکے گی؟ نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنی قیمتی رائے کا اظہار لازمی کریں۔

