قصور میں آدھی رات کو چھاپہ: خاتون کے ہینڈ بیگ سے انسانی گردہ برآمد، غیر قانونی نیٹ ورک بے نقاب
قصور: پنجاب کے شہر قصور میں واقع ایک نجی ہسپتال میں آدھی رات کو مارے گئے ایک سنسنی خیز چھاپے کے دوران انسانی اعضاء کی غیر قانونی پیوند کاری (ٹرانسپلانٹ) کرنے والے ایک بڑے نیٹ ورک کا پردہ فاش ہوا ہے۔ حکام نے موقع پر کارروائی کرتے ہوئے ایک خاتون کے ہینڈ بیگ سے انسانی گردہ برآمد کر لیا ہے جبکہ آپریشن تھیٹر سے ایک خاتون مریضہ کو انتہائی تشویشناک حالت میں پایا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، ہسپتال انتظامیہ نے قصور کے اس نجی ہسپتال میں باہر سے آئی ہوئی ایک مشکوک میڈیکل ٹیم کی غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں پولیس اور ہیلتھ اتھارٹیز کو مطلع کیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس، محکمہ صحت اور پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی (PHOTA) کے حکام آدھی رات سے کچھ دیر قبل ہسپتال پہنچے۔ وہاں معلوم ہوا کہ لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک میڈیکل ٹیم خاتون کا آپریشن کر رہی تھی۔ تفتیش کاروں کے مطابق، اسی گروپ نے پہلے بھی اس خاتون کے گردے کی پیوند کاری کی تھی، تاہم انفیکشن اور شدید پیچیدگیاں پیدا ہونے پر یہ ٹیم ٹرانسپلانٹ شدہ عضو کو دوبارہ جسم سے نکالنے کی کوشش کر رہی تھی۔
قصور; نجی اسپتال میں گردوں کی مبینہ غیرقانونی پیوند کاری کا معاملہ،تبدیل گردے کی ویڈیو سامنے آگئی
برآمد شدہ گردے کو پارسل بنا کر فرانزک لیب لاہور میں بھیج دیا گیا
ذرائع کے مطابق ویڈیو میں اہلکار ایک شاپر سے گردہ نکالتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
برآمد ہونے والے گردے کو شواہد کے طور… pic.twitter.com/N97CN4PvDE— Sajid Hussain Shuqran (@SajidShuqran888) June 22, 2026
کارروائی کے دوران مریضہ کے ساتھ آنے والے ایک شخص (جو اس کا کزن بتایا جاتا ہے) کے پاس موجود خاتون کے ہینڈ بیگ سے انسانی گردہ برآمد ہوا، جسے پولیس نے فوراً ثبوت کے طور پر تحویل میں لے لیا۔ پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی مشتبہ سرجن اور ٹیم کے دیگر ارکان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، تاہم پولیس نے لاہور سے لائے گئے جراحی کے آلات، اضافی طبی سامان اور ایک گاڑی سمیت 70 ہزار روپے نقد ضبط کر لیے ہیں۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے نوید، شہباز اور سید عمار نامی 3 مشتبہ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ ایف آئی آر میں 3 نامزد اور 5 نامعلوم افراد شامل ہیں جن کی گرفتاری کے لیے لاہور میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ متاثرہ مریضہ کو تشویشناک حالت کے باعث لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اس کا علاج جاری ہے۔ یہ کیس اب باضابطہ طور پر PHOTA کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے قانون کے مطابق اعضاء کی تجارتی خرید و فروخت سنگین جرم ہے جس کی سزا 10 سال قید اور بھاری جرمانہ ہے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟ انسانی زندگیوں سے کھیلنے والے ان عطائی ڈاکٹروں اور غیر قانونی اعضاء کی فروخت کے نیٹ ورکس کو کیا سزا ملنی چاہئے؟ نیچے کمنٹ سیمشن میں لازمی بتائیں۔

