سعودی عرب کی زیر قیادت اتحادی افواج نے دارالحکومت ریاض کے قریب آرامکو کی تنصیب کو ڈرون اور میزائل سے نشانہ بنانے کے حوثی دعوے کو من گھڑت قرار دے کر مسترد کر دیا۔
اتحادی ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق حوثی باغی یمن کے میدانِ جنگ، بالخصوص تعز میں اپنی پے درپے شکستوں اور بھاری جانی نقصان سے توجہ ہٹانے کے لیے پروپیگنڈے کا سہارا لے رہے ہیں۔
ریاض کے جنوبی علاقے میں تیل کی ایک تنصیب کے قریب آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا جس پر ہنگامی عملے نے قابو پایا، تاہم سعودی حکام یا آرامکو نے اس واقعے کو کسی بیرونی حملے سے منسوب نہیں کیا۔
سعودی عرب کی زیر قیادت عسکری اتحاد نے یمن کے حوثی عسکریت پسندوں کی جانب سے دارالحکومت ریاض کے قریب سرکاری تیل کمپنی ‘آرامکو’ کی تنصیب کو نشانہ بنانے کے دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے “فریبِ فتح” اور گمراہ کن پروپیگنڈا قرار دے دیا ہے۔ اتحادی ترجمان کے مطابق یہ بے بنیاد دعویٰ یمن کے میدانِ جنگ میں باغیوں کو ہونے والے بھاری نقصانات، بالخصوص تعز کے محاذ پر پسپائی سے عوامی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ دوسری جانب حوثی ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے آرامکو کو براہِ راست نشانہ بنا کر نقصان پہنچایا گیا ہے۔
ریاض میں آگ کا واقعہ اور فریقین کے متضاد دعوے
اطلاعات کے مطابق دارالحکومت ریاض کے جنوبی مضافات میں آرامکو سے وابستہ ایک تنصیب کے قریب آگ بھڑک اٹھی اور فضا میں دھوئیں کے بادل دیکھے گئے، جس پر سعودی ایمرجنسی اور فائر فائٹنگ ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پایا۔ تاہم، سعودی حکام اور آرامکو انتظامیہ کی جانب سے اس واقعے کو حوثی ڈرونز یا میزائل حملے کا نتیجہ تسلیم نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس کی عوامی سطح پر تصدیق کی گئی۔
اس کے برعکس حوثی عسکری ترجمان یحییٰ ساریہ اور ان کے زیر کنٹرول المسیرہ ٹی وی نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی یمن پر سعودی اتحادی فضائی حملوں کے جواب میں کی گئی تھی۔ غیر جانبدار مبصرین اور آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ تنصیب کے قریب آگ لگنے کے واقعے کی تصدیق ہوئی ہے، لیکن اس بات کے کوئی ٹھوس یا آزادانہ شواہد نہیں ملے کہ یہ آگ حوثی ہتھیاروں کے براہِ راست لگنے سے ہی لگی تھی۔
اتحادی فورسز کا مؤقف اور یمن میں زمینی عسکری پیش رفت
اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے حوثی دعووں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ باغی گروہ زمینی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے جھوٹی عسکری کامیابیوں کا سہارا لے رہا ہے۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ حوثی عسکریت پسند عوامی جذبات سے کھیلنے اور ایرانی ایجنڈے کو فروغ دینے کے لیے منظم معلوماتی جنگ لڑ رہے ہیں تاکہ یمنی حکومتی فورسز کے خلاف اپنی پے درپے پسپائی کو چھپایا جا سکے۔
یہ تنازع ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمنی سرکاری فوج کے ترجمان کرنل ماجد النزیلی نے حوثی ٹھکانوں پر 257 بھرپور عسکری آپریشنز کی تصدیق کی ہے۔ ان فضائی حملوں، توپ خانے اور ڈرون آپریشنز کا دائرہ صنعاء، میدی، باقم، الجوف، ماریب، البیضاء اور لحج سمیت تعز کے مرکزی محاذ تک پھیلا ہوا ہے، جس کے دوران باغیوں کے کمانڈ سینٹرز، اسلحہ ڈپو اور سپلائی لائنز کو شدید نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
خطے کے سیکیورٹی اثرات اور اوورسیز پاکستانی و کینیڈین تناظر
خلیجی خطے اور خصوصاً سعودی عرب کے توانائی انفراسٹرکچر کا امن و امان عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ لاکھوں تارکینِ وطن کے مفادات سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی اور دیگر جنوبی ایشیائی تارکین وطن کی ایک بہت بڑی تعداد تیل و گیس اور مینوفیکچرنگ سیکٹر سے وابستہ ہے، جن کے استحکام پر پاکستان کو ترسیل ہونے والا زرمبادلہ منحصر ہے۔
کینیڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی اور بین الاقوامی مبصرین کے نقطہ نظر سے، مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کوئی بھی عسکری یا معلوماتی کشیدگی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یمن جنگ کے پائیدار سیاسی حل کے بغیر یہ کشیدگی ختم ہونا مشکل ہے، تاہم سعودی عرب کے مستعد فضائی دفاعی نظام اور حالیہ جوابی اقدامات نے اسٹریٹجک تنصیبات کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی حوثی کوششوں کو مؤثر انداز میں روکے رکھا ہے۔
