نیو یارک — ظہران ممدانی نے نیویارک سٹی کے پہلے مسلمان میئر کی حیثیت سے حلف اٹھا کر شہر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم باب رقم کر دیا۔
نیویارک سٹی ہال میں منعقد ہونے والی خصوصی حلف برداری تقریب میں ظہران ممدانی نے قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر اپنے عہدے کا حلف لیا۔ حلف نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیا جیمز نے لیا، اس موقع پر ممدانی کی اہلیہ بھی ان کے ہمراہ موجود تھیں۔
ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے ظہران ممدانی نے 4 نومبر 2025 کو ہونے والے میئر کے انتخابات میں 50.78 فیصد ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔ اس فتح کے ساتھ وہ نیویارک سٹی کے 112ویں میئر بن گئے، جو شہر کی تاریخ میں ایک نمایاں سنگ میل سمجھا جا رہا ہے۔
انتخابی مہم کے دوران ممدانی کو بعض حلقوں کی جانب سے نسلی تعصب اور امتیازی بیانات کا سامنا بھی کرنا پڑا، جن میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات بھی شامل تھے۔ تاہم انتخابات کے بعد، ٹرمپ نے نہ صرف ظہران ممدانی کو کامیابی پر مبارکباد دی بلکہ نیویارک شہر کی بہتری کے لیے تعاون کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔
اپنی حلف برداری کے بعد خطاب میں ظہران ممدانی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ شہر کے تمام باشندوں کے لیے بلا امتیاز کام کریں گے اور اپنی انتظامیہ میں مساوات، انصاف اور شمولیت کو یقینی بنائیں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ظہران ممدانی کا انتخاب نیویارک سٹی ہی نہیں بلکہ پورے امریکہ کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ امریکی سیاست میں تنوع اور نمائندگی کو تیزی سے قبول کیا جا رہا ہے۔
