سابق آئی ایس آئی چیف فیض حمید نے فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی جانب سے سنائی گئی 14 سال قید کی سزا کے خلاف باقاعدہ اپیل دائر کر دی ہے، جس نے ملک بھر میں بحث کو جنم دیا ہے۔
راولپنڈی: سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید نے فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے فیصلے کے خلاف باضابطہ اپیل دائر کر دی ہے۔
ان کے وکیل، میاں علی اشفاق نے تصدیق کی کہ اپیل رجسٹرار کورٹ آف اپیلز، اے جی برانچ میں جمع کر دی گئی ہے اور چیف آف آرمی سٹاف کو بھیج دی گئی ہے۔ اپیل سے متعلق مزید تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں، لیکن اس اقدام نے ملک میں شدید تبصرے اور بحث کو جنم دیا ہے۔
پاکستان آرمی ایکٹ کے سیکشن 133B کے تحت، فیض حمید کے پاس فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے 40 دن کی قانونی مدت تھی۔ اپیل کا جائزہ سب سے پہلے ایک اپیل کورٹ کرے گی، جس کی سربراہی ایک میجر جنرل یا اعلیٰ افسر کریں گے، جسے آرمی چیف نامزد کریں گے۔ اس کے بعد، چیف آف آرمی سٹاف کے پاس فیصلہ کرنے کا اختیار ہوگا کہ سزا کو برقرار رکھا جائے، نظرثانی کی جائے، یا مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔
اس ماہ کے شروع میں، پاک فوج کے میڈیا ونگ نے اعلان کیا تھا کہ سابق جنرل فیض حمید کو طویل فوجی مقدمے کے بعد 14 سال قید کی سزا دی گئی تھی۔ انہیں سیاسی سرگرمیوں میں براہ راست ملوث ہونے، سرکاری راز کی خلاف ورزی، اختیارات اور وسائل کے غلط استعمال، اور غیر قانونی طور پر افراد کو نقصان پہنچانے کے الزامات کا سامنا تھا۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے تمام قانونی دفعات کی سختی سے تعمیل کی اور فیض حمید کو اپنی دفاعی ٹیم منتخب کرنے سمیت تمام قانونی حقوق فراہم کیے۔ آئی ایس پی آر نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اپیل کا حق برقرار ہے، جسے انہوں نے اب استعمال کیا ہے۔
مزید برآں، فوج کے میڈیا ونگ نے کہا کہ سیاسی عناصر کے ساتھ مبینہ ملی بھگت سے متعلق دیگر الزامات الگ سے زیرِ غور ہیں، جو آزادانہ جانچ کے تحت رہیں گے اور مستقبل میں مزید قانونی نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ کیس نہ صرف ملک میں قانونی اور فوجی امور میں دلچسپی پیدا کر رہا ہے بلکہ پاکستانی عوام کے درمیان دفاعی اور سیاسی شعبے کے بارے میں بحث کو بھی بڑھا رہا ہے۔
