لاہور میں موسم کی صورتحال اور محکمہ موسمیات کی جانب سے بارش کی پیشگوئی

لاہور میں گرج چمک کیساتھ بارش کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

پاکستان کے محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے مغربی موسمیاتی سلسلے کے زیرِ اثر لاہور میں منگل اور بدھ کے روز گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی ہے۔

صوبائی دارالحکومت میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35 ڈگری اور کم سے کم 23 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے، جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب 63 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔

پی ڈی ایم اے پنجاب نے 6 اور 7 اکتوبر کو لاہور، مری، راولپنڈی اور فیصل آباد سمیت متعدد اضلاع میں الرٹ جاری کرتے ہوئے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو پیشگی اقدامات کی ہدایت کی ہے۔

پاکستان کے محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے ملک کے بالائی حصوں میں نئے مغربی موسمی سلسلے کے داخل ہونے کے بعد صوبائی دارالحکومت لاہور میں منگل اور بدھ کے دوران گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کر دی ہے۔ موسمیاتی ماہرین کے مطابق اس موسمی لہر کے باعث شہر اور گردونواح کے موسم میں نمایاں تبدیلی اور خنکی میں اضافے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے پنجاب نے بھی ممکنہ موسمی شدت کے پیش نظر تمام متعلقہ ضلعی اداروں کو پیشگی حفاظتی اقدامات مکمل رکھنے کا حکم دے دیا ہے۔

لاہور کا موجودہ درجہ حرارت اور موسمیاتی کیفیت
محکمہ موسمیات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق منگل کی صبح لاہور میں مطلع صاف اور دھوپ کے ساتھ شروع ہوا، جہاں صبح کے اوقات میں درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ دن کے اوقات میں پارہ 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کی توقع ہے جبکہ رات کے وقت کم سے کم درجہ حرارت 23 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں 10 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں جبکہ فضا میں نمی کا تناسب 63 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مغربی ہواؤں کے داخلے کے بعد بادلوں کی گرج چمک اور تیز ہواؤں کے جھکڑ چلنے کی بھی توقع ہے، جس سے شہر کے متعدد علاقوں میں حبس کا زور ٹوٹ جائے گا اور شہریوں کو وقتی گرمی سے ریلیف میسر آئے گا۔

پنجاب کے متاثرہ اضلاع اور پی ڈی ایم اے کی ہدایات
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے 6 اور 7 اکتوبر کو صوبے کے وسیع حصے میں بارشوں کے نئے اسپیل کی تصدیق کی ہے۔ پی ڈی ایم اے کے الرٹ کے مطابق راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال اور جہلم میں بادل جم کر برسیں گے، جبکہ منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، وزیر آباد، قصور، شیخوپورہ، سیالکوٹ، نارووال، میانوالی اور خوشاب کے اضلاع بھی اس موسمی نظام کے زیرِ اثر رہیں گے۔

اس کے علاوہ سرگودھا، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور فیصل آباد میں بھی تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق تمام ڈویژنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور واسا سمیت ریسکیو اداروں کو نچلی سطح پر مشینری اور عملہ فعال رکھنے کی سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ نکاسی آب کے نظام میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

شہری انفراسٹرکچر اور اوورسیز کینیڈین پاکستانیوں کی نگاہ
لاہور جیسے بڑے میٹروپولیٹن شہر میں موسم کی تبدیلی کے جہاں مثبت اثرات ہوتے ہیں، وہیں نکاسی آب کا غیر معیاری نظام اور سڑکوں پر پانی جمع ہونا شہریوں کے لیے روزمرہ نقل و حرکت میں دشواری کا باعث بنتا ہے۔ کینیڈا اور دیگر مغربی ممالک میں مقیم اوورسیز پاکستانی کمیونٹی پاکستان کے شہری ڈھانچے اور جدید میونسپل مینجمنٹ کے فقدان پر مسلسل توجہ دلاتی رہی ہے، جہاں عام طور پر چند ملی میٹر بارش بھی شہری زندگی کو مفلوج کر دیتی ہے۔

کینیڈین پاکستانی ماہرینِ ماحولیات کے مطابق پاکستان کو بدلتے ہوئے موسمیاتی پیٹرنز اور اربن فلڈنگ سے نمٹنے کے لیے جدید اسمارٹ ڈرینج سسٹمز اور فعال بلدیاتی حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی تارکینِ وطن اپنے اہلِ خانہ کو بھی تاکید کر رہے ہیں کہ وہ بارش اور طوفان کے دوران بجلی کے کھمبوں اور نشیبی علاقوں سے دور رہ کر حفاظتی گائیڈ لائنز پر سختی سے عمل کریں۔

اپنا تبصرہ لکھیں