ضلع اٹک کی تحصیل حسن ابدال میں برہان پولیس چوکی کے اندر ڈیوٹی پر موجود ہیڈ کانسٹیبل حسیب الحسن پر فائرنگ کرنے کے الزام میں سوشل میڈیا ٹک ٹاکر لائبہ طارق عرف گجراتی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق خاتون نے پرس سے 30 بور کا پستول نکال کر اہلکار پر سیدھی گولی چلائی جو اس کی جیب میں موجود بٹوے سے ٹکرا گئی، جس کے باعث اہلکار معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔
مبینہ واردات کے بعد بجلی کی اچانک بندش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزمہ اپنی ساتھی خاتون کے ہمراہ موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی، جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
اٹک کی تحصیل حسن ابدال میں قانون کی عملداری کو چیلنج کرنے والا سنسنی خیز واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں برہان پولیس چوکی کے اندر ڈیوٹی پر مامور ہیڈ کانسٹیبل پر فائرنگ کرنے کے الزام میں معروف ٹک ٹاکر اور میڈیا ورکر لائبہ طارق عرف گجراتی کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ یہ واقعہ 4 اکتوبر کو پیش آیا جب ملزمہ نے مبینہ طور پر ذاتی رنجش اور بات چیت بند کرنے کے تنازع پر پولیس چوکی کے اندر گھس کر فائرنگ کی، تاہم گولی بٹوے سے ٹکرانے کے باعث اہلکار بال بال بچ گیا۔
پولیس چوکی میں فائرنگ اور معجزانہ بچاؤ کی تفصیلات
تھانہ حسن ابدال میں درج فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق، ہیڈ کانسٹیبل حسیب الحسن برہان پولیس چوکی میں اپنے فرائض انجام دے رہا تھا کہ اسی دوران لائبہ طارق وہاں پہنچی اور مبینہ طور پر اس کے بارے میں کی جانے والی باتوں پر تکرار شروع کر دی۔ شکایت کنندہ کے مطابق اس نے خاتون سے بات چیت کرنے سے انکار کیا اور اسے سمجھانے کی کوشش کی، جس پر تلخ کلامی بڑھ گئی۔ اس دوران شور سن کر چوکی پر موجود دیگر اہلکار بھی دفتر میں داخل ہوئے اور معاملہ رفع دفع کرانے کی کوشش کی۔

ایف آئی آر میں بیان کیا گیا ہے کہ بحث و تکرار کے دوران خاتون نے اچانک اپنے ہینڈ بیگ سے 30 بور کا نائن ایم ایم پستول نکالا اور حسیب الحسن کو نشانہ بنا کر فائر داغ دیا۔ خوش قسمتی سے گولی اہلکار کے کپڑوں کے بائیں حصے سے گزرتی ہوئی اس کی جیب میں رکھے بٹوے (پرس) میں پیوست ہو گئی جس سے اہلکار شدید زخمی ہونے سے محفوظ رہا۔ اسی دوران علاقے میں اچانک بجلی بند ہو گئی اور گھپ اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزمہ اپنی ایک اور خاتون ساتھی کے ہمراہ چوکی سے باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی۔
سابقہ جان پہچان، تنازع کی وجوہات اور پولیس کریک ڈاؤن
متاثرہ پولیس اہلکار نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اس کی سابقہ تعیناتی فتح جنگ میں تھی جہاں سماجی اور دفتری بنیادوں پر اس کی لائبہ طارق سے محدود جان پہچان ہوئی تھی۔ اہلکار کا مؤقف ہے کہ بعد میں اس نے مذکورہ خاتون سے ہر قسم کا رابطہ ختم کر دیا تھا، جس کی وجہ سے ملزمہ سخت رنجش رکھتی تھی اور اسی عناد کے تحت اس نے پولیس چوکی میں آ کر جان لیوا حملہ کیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہیڈ کانسٹیبل کی مدعیت میں اقدامِ قتل اور دہشت پھیلانے سمیت دیگر قانونی دفعات کے تحت باقاعدہ ایف آئی آر درج کر کے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ ملزمہ اور اس کی سہولت کار خاتون کی گرفتاری کے لیے پولیس کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو ان کے ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مار رہی ہیں تاکہ ملزمہ کو گرفتار کر کے واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ برآمد کیا جا سکے۔
ریاستی اداروں کا تقدس اور اوورسیز کینیڈین پاکستانی کمیونٹی کا ردعمل
حکومتی تنصیبات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دفاتر کے اندر اس نوعیت کے پرتشدد واقعات امن و امان اور سیکیورٹی پروٹوکولز پر سنجیدہ نوعیت کے سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ کینیڈا اور دیگر مغربی ممالک میں مقیم اوورسیز پاکستانی کمیونٹی قانون کی بالادستی، پولیس اسٹیشنز کی حفاظت اور غیر قانونی اسلحے کے کھلے عام استعمال پر ہمیشہ گہری تشویش ظاہر کرتی رہی ہے، کیونکہ منظم معاشروں میں ریاستی اہلکاروں یا چوکیوں پر حملہ ناقابلِ برداشت تصور کیا جاتا ہے۔
کینیڈین پاکستانی قانونی ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پر اثر و رسوخ یا کسی بھی پلیٹ فارم سے وابستگی کسی شہری کو قانون ہاتھ میں لینے کا جواز فراہم نہیں کرتی۔ ایسے واقعات کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ قانونی کارروائی نہ صرف پولیس فورس کا مورال بلند رکھنے کے لیے ضروری ہے بلکہ عام شہریوں کو بھی یہ واضح پیغام دیتی ہے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔
