ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازوں کی معطلی اور حوثی حملوں کے دعوے

ریاض ایئرپورٹ پر پروازیں معطل، حوثیوں کا دارالحکومت پر حملے کا دعویٰ

حوثی باغیوں کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں کے دعوے کے بعد سعودی دارالحکومت کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر متعدد پروازیں تاخیر کا شکار، منسوخ اور گراؤنڈ کر دی گئیں۔

حوثی عسکری ترجمان کے مطابق ریاض ایئرپورٹ، رابغ میں آرامکو آئل ریفائنری اور جنوبی سعودی عرب میں فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ دارالحکومت میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

سعودی ایوی ایشن نیٹ ورک پر شدید دباؤ کے بعد تجارتی پروازوں کا رخ متبادل روٹس پر موڑ دیا گیا؛ مبینہ حملوں کے نقصانات کی تاحال آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے آنے اور جانے والی ملکی و بین الاقوامی پروازیں منسوخ یا غیر معینہ مدت کے لیے تاخیر کا شکار ہو گئی ہیں، جس کے نتیجے میں مملکت کا ایوی ایشن سسٹم شدید دباؤ میں آ گیا ہے۔ یہ بحران اس وقت پیدا ہوا جب یمن کے حوثی باغیوں نے ریاض کے ہوائی اڈے اور اسٹریٹجک توانائی تنصیبات پر کروز و بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے وسیع حملوں کا دعویٰ کیا، جس کے بعد سیکیورٹی پروٹوکولز کے تحت دارالحکومت کی فضائی حدود میں پروازوں کے راستے تبدیل کر دیے گئے۔

فضائی حدود کی بندش اور ریاض ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن میں خلل
کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے اندرونی ذرائع اور دستیاب اطلاعات کے مطابق رن وے پر کئی طیاروں کو لینڈنگ کی اجازت نہیں مل سکی جبکہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ایئرپورٹ کے متعدد ٹرمینل گیٹس عارضی طور پر بند کر دیے گئے۔ فضائی نیوی گیشن میں پیدا ہونے والے تعطل کے بعد سویلین ایئر لائنز نے سعودی دارالحکومت کی فضائی حدود سے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا اور فضا میں موجود پروازوں کو متبادل ہوائی اڈوں پر لینڈ کرانے پر مجبور ہونا پڑا۔

اس صورتحال کے دوران ریاض شہر کے مختلف حصوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں، جس سے شہریوں اور مسافروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ اگرچہ زمین پر مبینہ اہداف کو پہنچنے والے نقصان کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی ہے، تاہم تجارتی ہوا بازی کی معطلی نے سعودی عرب کے مرکزی سفری نیٹ ورک کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

حوثیوں کے اسٹریٹجک اہداف کے دعوے اور اتحادی فورسز کا جوابی ایکشن
حوثی عسکری ترجمان یحییٰ ساریہ نے اپنے ایک بیانیے میں دعویٰ کیا کہ اس کارروائی میں بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔ ترجمان کے مطابق کارروائی کا دائرہ رابغ میں واقع سعودی آرامکو کی ریفائنری، جنوبی سعودی عرب کے عسکری اڈوں اور چھوٹے ہوائی اڈوں تک وسیع کیا گیا تھا، جس کا مقصد سعودی اتحادی کارروائیوں کا جواب دینا تھا۔

دوسری جانب سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ اس نے بحیرہ احمر کے ساحلی پٹی پر حوثیوں کے عسکری ٹھکانوں پر بھرپور جوابی فضائی حملے کیے ہیں اور متعدد شرپسند اہداف کو تباہ کر دیا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں فریقین کے متضاد دعووں کے باعث نقصانات کا حتمی تخمینہ لگانا قبل از وقت ہے، تاہم شہری ہوائی اڈوں اور تنصیبات کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔

فضائی روٹس پر دباؤ اور کینیڈین پاکستانی مسافروں کا تحفظ
خلیجی ممالک کی فضائی حدود بین الاقوامی ایوی ایشن اور ٹرانزٹ ٹریفک کے لیے عالمی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ کینیڈا، شمالی امریکہ اور برطانیہ سے پاکستان آنے جانے والے لاکھوں اوورسیز پاکستانی خلیجی ایئرلائنز کے ذریعے سفر کرتے ہیں جن کا بڑا ٹرانزٹ روٹ سعودی عرب کے اوپر سے گزرتا ہے۔ ریاض کی فضائی حدود کے متاثر ہونے یا پروازوں کی معطلی سے کینیڈین پاکستانی تارکینِ وطن کے سفری شیڈول اور کنیکٹنگ فلائٹس شدید تعطل کا شکار ہو سکتی ہیں۔

کینیڈین پاکستانی سیکیورٹی اور ایوی ایشن ماہرین کے مطابق سویلین ایئرپورٹس کو عسکری تنازعات کا نشانہ بنانے یا فضائی روٹس پر عدم استحکام پیدا کرنے سے بین الاقوامی تجارتی سفر کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا ہے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی برادری خلیجی خطے میں امن کے قیام کی خواہاں ہے تاکہ لاکھوں مسافروں اور تارکینِ وطن کے محفوظ سفری و اقتصادی مفادات کو تحفظ حاصل رہ سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں