مشرق وسطیٰ میں بڑا دھماکہ: ہرمز میں امریکی حملے، ایران کا بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں پر میزائل داغنے کا دعویٰ
تہران / واشنگٹن: امریکہ اور ایران کے درمیان جاری فوجی محاذ آرائی ایک انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں آبنائے ہرمز میں نئے امریکی حملے سامنے آنے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بحرین اور کویت میں قائم اہم ترین امریکی فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔ اس شدید ترین عسکری تصادم کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع تر جنگ چھڑنے کے خدشات میں ریکارڈ اضافہ ہو گیا ہے۔
ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ انہوں نے کویت میں واقع ‘علی السلم ایئر بیس’ اور بحرین کے دارالحکومت منامہ میں قائم امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے (5th Fleet) کے ہیڈ کوارٹر پر متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے ہیں۔ تہران کا موقف ہے کہ یہ کارروائی ایران کے پانچ ساحلی مقامات پر ہونے والے حالیہ امریکی فضائی حملوں کا منہ توڑ جواب ہے۔ دوسری جانب، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تصدیق کی ہے کہ امریکی لڑاکا طیاروں نے مسلسل دوسرے دن آبنائے ہرمز کے اسٹریٹجک آبی راستے میں دس ایرانی اہداف بشمول سرک، بندر لنگھ اور جزیرہ قشم کو نشانہ بنایا ہے، اور یہ کارروائی وہاں سے گزرنے والے ایک تجارتی جہاز پر ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں کی گئی ہے۔ آئی آر جی سی نے واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی مزید فوجی کارروائی کی صورت میں اس سے بھی زیادہ ہولناک اور “کرشنگ ردعمل” دیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ طے شدہ عبوری مفاہمت کی یادداشت (MoU) کے تحت آبنائے ہرمز کے سمندری ٹریفک کے انتظام کی ذمہ داری ایران کے پاس ہے اور ان انتظامات کو نظر انداز کرنے والے بحری جہازوں کو سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
U.S. Navy and Air Force fighter jets conducted strikes tonight on 10 Iranian military targets at multiple locations in and near the Strait of Hormuz for Iran's drone attack on M/T Kiku. pic.twitter.com/Z0TLZRqmF6
— U.S. Central Command (@CENTCOM) June 28, 2026
اس لڑائی کے بعد خلیجی خطے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ بحرین میں دو مرتبہ فضائی حملوں کے سائرن بجائے گئے، جبکہ کویتی حکام کے مطابق ان کے دفاعی نظام نے آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ اس دوران وسیع تر علاقائی صورتحال بھی انتہائی کشیدہ ہے، جہاں اسرائیل نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے جنجگوؤں پر فضائی حملوں کی تصدیق کی ہے۔ ساتھ ہی اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے فلسطینی ریاست کے قیام کی سخت مخالفت کرتے ہوئے دہرایا ہے کہ دریائے اردن سے بحیرہ روم تک دو ریاستوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت سمیت دیگر خلیجی ممالک نے ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے علاقائی استحکام کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا ہے اور بحرین نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے اس بحران پر ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ توانائی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس اہم ترین عالمی تجارتی اور جہاز رانی کے راستے پر جاری کشیدگی سے عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے ان فوجی حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی اس سنگین صورتحال پر آپ کی کیا رائے ہے؟ نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنے قیمتی خیالات کا اظہار لازمی کریں۔

