لاہور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ: شناختی کارڈ پاکستانی شہریت کا حتمی ثبوت نہیں

لاہور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ: قومی شناختی کارڈ ہونا پاکستانی شہریت کا حتمی ثبوت نہیں

لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ صرف کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) کا ہونا ہی کسی فرد کی پاکستانی شہریت کا حتمی ثبوت نہیں ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ محض ایک شناختی دستاویز کی بنیاد پر قومیت کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا بلکہ ایسے تمام متنازعہ دعووں کا فیصلہ ملک کے شہریت کے قوانین اور متعلقہ نادرا ضوابط کے تحت ہونا لازمی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے یہ فیصلہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (NADRA) کی جانب سے دائر کردہ ایک سول نظرثانی کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے سنایا۔ نادرا نے نچلی عدالتوں کے ان فیصلوں کو چیلنج کیا تھا جن میں خالد خان اور ایک اور شخص کو پاکستانی شہری تسلیم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ ہائیکورٹ نے نچلی عدالتوں کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ قومیت اور شہریت جیسے حساس سوالات کو صرف سول کورٹ کی عام کارروائیوں کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے ریاست کے مقرر کردہ مخصوص قانونی فریم ورک اور سخت جانچ پڑتال کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔

کیس کے حقائق کے مطابق، نادرا نے جواب دہندگان کے شناختی کارڈز کو “ایلین” (غیر ملکی) کے طور پر درجہ بندی کرتے ہوئے بلاک کر دیا تھا، جس کے بعد یہ معاملہ اسپیشل برانچ، انٹیلی جنس بیورو (IB) اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (ISI) کے اعلیٰ حکام پر مشتمل مشترکہ تصدیقی کمیٹی (JVC) کو بھیجا گیا تھا۔ تاہم، تمام تر انکوائری کے باوجود کمیٹی کے سامنے ان افراد کی پاکستانی شہریت کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ تصدیقی عمل کے دوران جواب دہندگان کے والد اپنی خاندانی تاریخ اور خاندانی پس منظر کے بارے میں اہم ترین معلومات فراہم کرنے میں مکمل ناکام رہے، جس سے ان کے پاکستانی نژاد ہونے کے دعوے پر سنگین شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔

جسٹس کیانی نے مزید ریمارکس دیئے کہ افغان تنازع کے دوران اور اس کے بعد بڑی تعداد میں افراد بطور مہاجرین پاکستان میں داخل ہوئے اور ملک کا جائز شہری نہ ہونے کے باوجود مختلف طریقوں سے قومی شناختی دستاویزات حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ عدالت نے واضح کیا کہ جواب دہندگان کو اپنے والد کی پاکستانی قومیت ثابت کرنے کے لیے 1979 سے پہلے کا کوئی معتبر سرکاری یا عوامی ریکارڈ پیش کرنا لازمی تھا، لیکن عدالت کے سامنے ایسا کوئی ثبوت نہیں لایا گیا۔ ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ نچلی عدالتوں نے نادرا کے جمع کرائے گئے ٹھوس حقائق اور دستاویزی شواہد کو یکسر نظر انداز کیا، اس لیے ان کے فیصلے برقرار نہیں رکھے جا سکتے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا لاہور ہائیکورٹ کے اس فیصلے سے نادرا کو غیر قانونی شناختی کارڈز اور غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی کرنے میں مدد ملے گی؟ نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنی قیمتی رائے کا اظہار لازمی کریں۔

اپنا تبصرہ لکھیں