یو اے ای میں پہلی مسافر ٹرین سروس کا شاندار آغاز: ابوظہبی سے فجیرہ کا سفر اب صرف 1 گھنٹہ 45 منٹ، کرایہ 55 درہم مقرر
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات (UAE) نے متعدد امارات کو آپس میں جوڑنے کے لیے باضابطہ طور پر اپنی پہلی تیز رفتار مسافر ٹرین سروس کا آغاز کر کے ایک نیا تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے، جس سے مختلف شہروں کے درمیان سفری اوقات میں نمایاں کمی آئے گی۔
اس تاریخی منصوبے کا باضابطہ افتتاح ابوظہبی کے ولی عہد نے محمد بن زید سٹی میں نو تعمیر شدہ مسافر ریلوے اسٹیشن پر ایک پروقار تقریب کے دوران کیا۔ ابوظہبی اور فجیرہ کے درمیان عوامی مسافر ٹرین سروس کا باقاعدہ آغاز 30 جون سے ہونے جا رہا ہے، جس کے بعد دونوں امارات کے مابین سفر کا وقت سمٹ کر محض 1 گھنٹہ اور 45 منٹ رہ جائے گا، جو سڑک کے ذریعے کیے جانے والے سفر سے کہیں زیادہ تیز اور آرام دہ ہے۔ انتظامیہ نے اس سروس کے لیے عام کلاس کا ابتدائی کرایہ صرف 55 اماراتی درہم (AED) مقرر کیا ہے، جبکہ پریمیم کلاس کا ٹکٹ 120 درہم میں دستیاب ہوگا، جو مسافروں کو بین الاماراتی سفر کے لیے ایک پرتعیش اور موثر متبادل فراہم کرے گا۔
ریلوے نیٹ ورک کے توسیعی منصوبے کے تحت دبئی اور الدھید میں نئے ریلوے اسٹیشنز 30 ستمبر 2026 تک کھولنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ دسمبر 2026 میں ابوظہبی کے مغربی الظفرہ ریجن تک اس سروس کو بڑھایا جائے گا۔ مزید برآں، مارچ 2027 میں شارجہ کا مرکزی ریلوے اسٹیشن بھی اس قومی ریل نیٹ ورک کا حصہ بن جائے گا۔ حکام اس عظیم الشان منصوبے کو یو اے ای کی معیشت، سیاحت اور تجارت کے لیے گیم چینجر سرمایہ کاری قرار دے رہے ہیں، جس سے سڑکوں پر ٹریفک کا بوجھ اور ماحولیاتی آلودگی کم ہوگی۔ مستقبل میں اس ریل نیٹ ورک کو دیگر خلیجی ممالک (GCC) کے ساتھ بھی جوڑنے کا منصوبہ ہے تاکہ علاقائی انضمام اور سرحد پار سفر کو مزید آسان بنایا جا سکے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا متحدہ عرب امارات کی یہ نئی مسافر ٹرین سروس وہاں مقیم پاکستانیوں کے لیے روزگار اور امارات کے درمیان روزمرہ سفر میں بڑی آسانیاں پیدا کرے گی؟ نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنی قیمتی رائے کا اظہار لازمی کریں۔

