شایان علی کا دنیا ٹی وی کے خلاف 1 لاکھ پاؤنڈ کا ہتک عزت مقدمہ: لندن ہائی کورٹ میں فائنل ٹرائل کی تیاری
لندن: برطانوی پاکستانی پی ٹی آئی کارکن شایان علی اور دنیا ٹی وی کے درمیان جاری قانونی جنگ اب برطانوی ہائی کورٹ میں فائنل ٹرائل کے بالکل قریب پہنچ گئی ہے۔ پاکستانی میڈیا نیٹ ورک کو سابق وزیر اعظم نواز شریف سے متعلق الزامات پر لندن کی عدالت میں تقریباً 1 لاکھ برطانوی پاؤنڈ (£100,000) کے بھاری ہتک عزت کے دعوے کا سامنا ہے۔
یہ تنازعہ 2022 میں دنیا نیوز کی ایک متنازعہ نشریات سے شروع ہوا تھا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ شایان علی نے لندن میں ہائیڈ پارک کے قریب ن لیگ کے دفتر کے باہر سابق وزیر اعظم نواز شریف کا سامنا کرنے کی کوشش کی اور ان پر موبائل فون پھینکا، جس سے مبینہ طور پر شریف کی سیکیورٹی ٹیم کا ایک رکن زخمی ہوا۔ پی ٹی آئی کے سرگرم حامی شایان علی نے پہلے دن سے ہی ان الزامات کی واضح طور پر تردید کی ہے اور ان کا اصرار ہے کہ وہ محض دفتر کے باہر لائیو ویڈیو ریکارڈ کر رہے تھے اور کسی حملے میں ملوث نہیں تھے، جبکہ ان کے خلاف برطانوی پولیس کی جانب سے کبھی کوئی گرفتاری یا مجرمانہ چارجز بھی عائد نہیں کیے گئے۔
اس کیس نے ڈرامائی موڑ اس وقت لیا جب برطانیہ کے میڈیا ریگولیٹر ‘آف کام’ (Ofcom) نے باقاعدہ شکایت کے بعد شایان علی کے حق میں فیصلہ سنایا۔ آف کام نے اپنے فیصلے میں کہا کہ دنیا نیوز سنگین الزامات نشر کرنے سے قبل شایان علی کو اپنا موقف پیش کرنے کا مناسب موقع دینے میں ناکام رہا، جس سے ان کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک ہوا اور اسی بنیاد پر ہائی کورٹ کے مقدمے کی راہ ہموار ہوئی۔ شایان علی کا موقف ہے کہ اس رپورٹ سے برطانیہ اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا، جس کے بدلے وہ ہرجانے اور معافی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دوسری طرف دنیا ٹی وی نے عدالت میں اپنا باضابطہ دفاع داخل کر دیا ہے اور ان کے وکیل ایان ہیمنگوے نے تصدیق کی ہے کہ ہائی کورٹ کے سامنے کارروائی جاری ہے۔ شایان علی، جو اگلے ماہ لندن یونیورسٹی سے ایل ایل بی (قانون) کی ڈگری مکمل کر رہے ہیں، اپنی قانونی ٹیم کے ہمراہ پرامید ہیں کہ عدالت سے انصاف ملے گا۔
آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا برطانیہ کی ہائی کورٹ میں پاکستانی میڈیا کے خلاف ہتک عزت کے ایسے مقدمات سے یکطرفہ سیاسی رپورٹنگ کے رجحان پر روک تھام لگے گی؟ نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنی قیمتی رائے کا اظہار لازمی کریں۔

